سٹی 42: پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ سفارتی اور عملی طور پر کھڑا ہے اور سعودی عرب کی سلامتی اور حرمین شریفین کے تحفظ کیلئے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔
عرب نیوز کو خصوصی انٹرویو میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ سعودی عرب کی سلامتی کیلئے پاکستان کا عزم غیر مشروط ہے، جو دونوں ممالک کے عوام اور قیادت کے درمیان جذباتی، دیرینہ، تاریخی اور اٹوٹ رشتے سے جڑا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ کسی کو اس بات میں شک نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان کے عوام سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، جبکہ پاکستان سعودی عرب کے خلاف کسی بھی جارحیت کا دفاع کرنے کیلئے تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے اور اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں اور عزم کی پاسداری کی ہے۔ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت مسلسل سعودی قیادت کے ساتھ رابطے میں ہے۔ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پاکستان کی مسلسل، انتھک اور انتہائی پرخلوص سفارتکاری کے بعد طے پائی۔
افغانستان کے حوالے سے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ افغان طالبان رجیم سے پاکستان کا ایک ہی ٹھوس مطالبہ ہے کہ وہ افغان سرزمین سے پاکستان کے اندر ہونے والی دہشتگردی کو روکے۔
ان کا کہنا تھا کہ تقریباً 80 فیصد خودکش بمبار افغان ہیں جبکہ افغانستان سے پاکستان آنے والی ہر تشکیل میں افغان شہری موجود ہوتے ہیں اگر افغان طالبان رجیم دوحہ معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں پر عملدرآمد نہیں کرتی تو پاکستان کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔
بلوچستان میں دہشتگردی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کو عوامی حمایت حاصل نہیں اور وہ اپنے نظریے کو بندوق کی نوک پر مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نےکہا کہ دہشتگردی کی سرپرستی بھارت کر رہا ہے اور سوشل میڈیا باہر سے چلایا جا رہا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ریاست کی پالیسی بالکل واضح ہے کہ دہشتگردوں کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔