ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

محکمہ آبپاشی میں مالی بے ضابطگیاں، کروڑوں کی ادائیگیوں کا انکشاف

محکمہ آبپاشی میں مالی بے ضابطگیاں، کروڑوں کی ادائیگیوں کا انکشاف
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

رائو دلشاد:محکمہ آبپاشی پنجاب میں گھوسٹ ملازمین، غیر مجاز اخراجات اور مبینہ بوگس معذوری سرٹیفکیٹس پر بھرتیوں سمیت 91 کروڑ 81 لاکھ 28 ہزار روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔

محکمہ آبپاشی سے متعلق پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ون کی میٹنگ کے منٹس میں مالی بے ضابطگیوں کے حوالے سے اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ بڑے پیمانے پر محکمانہ غفلت پر پی اے سی ون نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آڈٹ پیراز کو التوا میں رکھتے ہوئے محکمہ آبپاشی سے 30 روز میں وضاحت اور پیش رفت رپورٹ طلب کرلی۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق گھوسٹ ملازمین کی تنخواہوں کی مد میں 83 کروڑ 10 لاکھ روپے کی ادائیگیاں کی گئیں۔ غیر فعال مغلپورہ ورکشاپ میں بھی ملازمین کی تنخواہوں کی مد میں ادائیگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مطلوبہ ڈپازٹ وصول کیے بغیر 5 کروڑ 18 لاکھ 58 ہزار روپے کے غیر مجاز اخراجات کیے گئے، جبکہ مبینہ بوگس معذوری کے میڈیکل سرٹیفکیٹس پر بھرتیوں کی مد میں 3 کروڑ 52 لاکھ 70 ہزار روپے کی ادائیگیاں کی گئیں۔

آڈٹ کے مطابق گھوسٹ ملازمین کے معاملے میں ابتدائی طور پر مالی نقصان 8 کروڑ 70 لاکھ 52 ہزار روپے ظاہر کیا گیا تھا، تاہم محکمانہ تحقیقات کے بعد یہ رقم بڑھ کر 83 کروڑ 10 لاکھ روپے ہوگئی۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق معاملہ 2017 میں شروع ہونے والی محکمانہ تحقیقات کے باوجود 2025 تک زیر التوا رہا۔ پی اے سی ون نے گھوسٹ ملازمین کے معاملے میں نیب کارروائی کی رپورٹ بھی طلب کرلی ہے۔

کمیٹی نے سزاؤں، ریکوری اور ذمہ دار افسران کی موجودہ تعیناتیوں سے متعلق جامع رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ مالی بے ضابطگیوں کے ذمہ دار ثابت ہونے والے افسران کو فیلڈ پوسٹنگ نہ دینے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

دوسری جانب بوگس معذوری سرٹیفکیٹس پر بھرتی کیے گئے ملازمین کو برطرف کیا گیا، تاہم پنجاب سروس ٹربیونل کی جانب سے بحالی کے بعد محکمہ آبپاشی نے فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا۔

پی اے سی ون نے محکمہ آبپاشی سے تمام آڈٹ پیراز پر پیش رفت رپورٹ 30 روز کے اندر جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے مالی بے ضابطگیوں سے متعلق آڈٹ پیراز کو تاحال زیر التوا رکھنے کا حکم دیا ہے۔