ملک اشرف:لاہور ہائیکورٹ نے عدالتی فائل گمشدگی کیس میں سزا پانے والے محمد خالد رشید کو بری کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
جسٹس محمد امجد پرویز نے محمد خالد رشید کی درخواست پر فیصلہ جاری کیا۔ لاہور ہائیکورٹ کا 15 صفحات پر مشتمل فیصلہ عدالتی نظیر قرار دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ استغاثہ ملزم کے خلاف جرم ثابت کرنے میں بری طرح ناکام رہا، جبکہ یہ کیس کسی ثبوت کے بغیر الزام کا معاملہ ہے۔ عدالت کے مطابق کسی فعل کا محض سرزد ہونا کسی شخص کو مجرم نہیں بناتا، جرم ثابت کرنے کے لیے مجرمانہ نیت کا ثابت ہونا ضروری ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ مجرمانہ نیت فوجداری جرم کا لازمی جزو ہے۔ محکمانہ انکوائری میں ملزم کو بدعنوانی کے بجائے غفلت اور نااہلی کا ذمہ دار قرار دیا گیا، جبکہ انکوائری رپورٹ استغاثہ کے مؤقف کی تائید کرنے کے بجائے اسے زائل کرتی ہے۔
لاہور ہائیکورٹ کے مطابق ٹرائل کورٹ نے جن محکمانہ دستاویزات پر انحصار کیا، وہ قانونی طور پر ثابت نہیں کی گئیں۔ محکمانہ انکوائری رپورٹ کے مصنفین بھی ٹرائل کے دوران بطور گواہ پیش نہیں ہوئے۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ تفتیشی افسر نے ملزم کے مؤقف کی بھی تفتیش نہیں کی اور پہلے ہی ملزم کو قصوروار سمجھ کر تفتیش کرتا رہا۔
عدالت نے قرار دیا کہ گمشدہ عدالتی فائل بھی ملزم کے قبضے سے برآمد نہیں ہوئی۔
لاہور ہائیکورٹ نے محمد خالد رشید کی اپیل منظور کرتے ہوئے اسے الزام سے بری کر دیا اور ٹرائل کورٹ کی جانب سے دی گئی سزا کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔