ملک اشرف :لاہور ہائی کورٹ نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے مشترکہ جائیداد کی نیلامی کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کرنا لازمی قراردے دیا۔
لاہور ہائیکورٹ نےجائیداد کی نیلامی کے خلاف دائر سول نظرثانی درخواست پر فیصلہ جاری کردیا،جسٹس محمد ساجد محمود سیٹھی نے سائل غلام محمد کی نظر ثانی درخواست پر فیصلہ جاری کیا،8صفحات کا فیصلہ عدالتی نظیر قراردیاگیاہے۔
فیصلے کے مطابق پنجاب پارٹیشن آف امویبل پراپرٹی ایکٹ کے تحت کھلی نیلامی سے قبل اندرونی نیلامی کرانا فرض ہے،ریزرو پرائس کا قانون کے مطابق درست تعیّن کیے بغیر نیلامی کی توثیق نہیں ہو سکتی،محض سب سے زیادہ بولی دینے والے کا سامنے آنا نیلامی کے طریقہ کار کی قانونی خامیو ں کو ختم نہیں کرتا،عدالتی نیلامی میں شفافیت اور تمام مالکان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ضروری ہے۔
سابقہ 50 لاکھ کی بولی کے باوجود ساڑھے 36 لاکھ میں نیلامی کی منظوری پر ہائیکورٹ نے اعتراض کرتے ہوئے ایگزیکیوٹنگ کورٹ کا ساڑھے 36 لاکھ کی نیلامی کی توثیق کا حکم کالعدم قرار دیدیا،اور ایگزیکیوٹنگ کورٹ کو متاثرہ فریق کے حصے اور اس کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کا ازسرنو تعیّن کرنے کی ہدایت کردی گئی،خریدار کو درخواست گزار کے حصے کی رقم نئی طے شدہ مارکیٹ قیمت کے مطابق ادا کرنے کا موقع دیدیا گیا۔
ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق اگر خریدار طے شدہ رقم ادا نہیں کرے گا تو درخواست گزار کے حصے کی دوبارہ قانونی نیلامی ہوگی،دیگر شریک مالکان کی حد تک خرید و فروخت اور خریدار کے حاصل کردہ حقوق برقرار رہیں گے،جائیداد کی ملکیت اور حصوں سے متعلق جاری شدہ ابتدائی ڈگری کی قانونی حیثیت بحال رہے گی ۔ ہائی کورٹ نے سول نظرثانی کی درخواست جزوی طور پر منظورکرتے ہوئے معاملہ ازسرنو فیصلہ سازی کے لیے ایگزیکیوٹنگ کورٹ کو ریمانڈ کردیااور ایگزیکیوٹنگ کورٹ کو تمام کارروائی تین ماہ کے اندر مکمل کرنے کا حکم دے دیاہے۔
Stay tuned with 24 News HD Android App