(ارشاد قریشی) وزیر اعلٰی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کو اڈیالہ جیل جا تے ہوئے اسلام آباد پولیس نے 26 نمبر پر روک لیا۔ریفک بند ہونے سے 26 نمبر پر گاڑیوں کی لمبی لائنیں لگ گئیں۔سہیل آفریدی کی ایس ایچ او سنگجانی سے تلخ کلامی بھی ہوئی۔ بیرسٹر گوہر علی خان اڈیالہ پہنچ گئے۔
تفصیلات کے مطابق وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی اڈیالہ جیل جا رہے تھے کہ اسلام آباد پولیس نے 26 نمبر پر انہیں ناکہ لگا کر روک لیا،،پولیس نے 26 نمبر کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا،سی ایم کے پی قافلے کے ہمراہ 26 نمبر پر موجود ہیں،ٹریفک بند ہونے سے 26 نمبر پر گاڑیوں کی لمبی لائنیں لگ گئیں۔وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور بانی پی ٹی آئی کی بہنیں 26 نمبر چونگی پر موجود ہیں،پارلیمنٹرینز اور کارکنوں کی بڑی تعداد وزیر اعلیٰ کے ہمراہ موجود ہیں،پولیس نے اسلام آباد اور راولپنڈی شہر کو آنے والے راستوں پر ٹریک ڈمپر لگا کر بند کر دیئے۔26 نمبر چونگی پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے احتجاج کیا گیا، آئی جے پی روڈ،پشاور روڈ اور سرینگر ہائی وے پر میٹرو روٹس روک دیئے گئے ،احتجاج کی کیفیت کے تناظر میں تمام بسیں آف روڈ کر دی گئیں۔

اسلام آباد اور راولپنڈی پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ۔بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کا وقت ختم ہوگیا۔ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے کوئی فیملی ممبر اڈیالہ جیل نہیں پہنچا،راولپنڈی پی ٹی آئی ملاقات فہرست کے مطابق بھی کوئی رہنماء نہ پہنچا،ملاقات فہرست کے مطابق بیرسٹر گوہر، سلمان اکرم راجہ، چنگیز خان کاکڑ کے نام بھجوائے گئے تھے،انتظار پنجوتھہ، علی رحمان اور علی اعجاز بٹر کے نام بھی فہرست میں شامل تھے۔
ملاقات کے دن پی ٹی آئی کے چئیرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور عمیر نیازی دیگر پارلیمنٹیرنزکے ہمراہ اڈیالہ پہنچ گئے ۔پولیس نے تمام رہنماوں کو داہگل ناکے پر روک لیا۔