زبیر راشد : انٹرمیڈیٹ بورڈ کراچی کے تحت جاری انٹرمیڈیٹ امتحانات کے دوران اردو لازمی سال دوئم کے پرچے کے مبینہ طور پر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد طلبہ اور والدین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق امتحان شروع ہوتے ہی اردو لازمی سال دوئم کا پرچہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگا، جس کے بعد امتحانی نظام اور سکیورٹی انتظامات پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ والدین نے سوال کیا ہے کہ اگر پرچہ امتحانی مراکز تک پہنچنے سے پہلے باہر آیا تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی۔
طلبہ کا کہنا ہے کہ پیپر لیک ہونے کے واقعات سے ان کے مستقبل پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور محنت کرنے والے امیدوار متاثر ہوتے ہیں۔
دوسری جانب انٹرمیڈیٹ بورڈ کراچی پر نقل مافیا کے خلاف مؤثر اقدامات نہ کرنے کے الزامات بھی سامنے آ رہے ہیں، تاہم اس معاملے پر بورڈ انتظامیہ کی جانب سے باضابطہ مؤقف سامنے آنا باقی ہے۔
والدین اور طلبہ نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور اگر پرچہ لیک ہونے کی تصدیق ہو تو ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ امتحانی نظام پر اعتماد بحال ہو سکے۔