احمد منصور: پاکستان میں کاروباری ماحول میں بہتری کے باعث سرمایہ کاری اور نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جسے کاروباری اعتماد اور معاشی سرگرمیوں میں مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایس ای سی پی مسرت جبین نے کہا کہ ایس ای سی پی سرمایہ کاری کے عمل کو مزید آسان بنانے اور مالیاتی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے اہم اصلاحات کر رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق فروری تا اپریل 2026 کے دوران ایس ای سی پی کے تحت 10 ہزار 511 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن مکمل ہوئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 21 فیصد زیادہ ہے۔ اسی عرصے میں پہلی مرتبہ ایک ماہ کے دوران 4 ہزار 82 کمپنیوں کی ریکارڈ رجسٹریشن بھی کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق 22 سے زائد ممالک کے غیر ملکی سرمایہ کاروں نے پاکستان میں نئی کمپنیاں قائم کیں، جبکہ 220 غیر ملکی شیئر ہولڈنگ کمپنیوں کا ادا شدہ سرمایہ بڑھ کر 882 ملین روپے تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 218 فیصد زیادہ بتایا جا رہا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے سی ای او فرخ سَبزواری نے کہا کہ ایس ای سی پی کی نگرانی میں لسٹنگ پائپ لائن مضبوط ہے اگلے 12 ماہ میں 12–10 آئی پی اوز متوقع ہیں۔
دوسری جانب سنٹرل ڈیپازٹری کمپنی کے سی ای او بدیع الدین اکبر کا کہنا تھا کہ پاکستان کی کیپٹل مارکیٹ ایشیا اور دنیا کی بہتر کارکردگی دکھانے والی مارکیٹس میں شامل ہو رہی ہے، جبکہ آئندہ دو سے تین برس میں 25 لاکھ سرمایہ کاروں کا ہدف حاصل کرنا ممکن ہے۔
ماہرین کے مطابق سرمایہ کاری، کمپنی رجسٹریشن اور کیپٹل مارکیٹ میں بڑھتی سرگرمیاں معیشت کی ڈیجیٹل تبدیلی اور پائیدار ترقی کی جانب اہم اشارہ سمجھی جا رہی ہیں۔