ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

بجٹ مسترد، ملازم  23 جون کو صوبائی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے

 بجٹ مسترد، ملازم  23 جون کو صوبائی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:   بلدیاتی اور سرکاری اداروں کے ملازمین نے صوبائی بجٹ کو مسترد کر دیا۔  23 جون کو سرکاری ملازم صوبائی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے۔ ملازموں کے لیڈروں نے احتجاج کا اعلان کر دیا۔

 خیبر پختونخوا کے مختلف سرکاری محکموں کے ملازمین نے پشاور پریس کلب کے سامنے احتجاج کیا اور مظاہرین نے بینرز اتھا رکھے تھے جن پر ان کے مطالبات درج تھے۔

سرکاری ملازموں کے لیڈروں نے بتایا کہ  خیبر پختونخوا کی علی امین گنڈاپور حکومت نے  بجٹ بنانے کے لیے کراچی سے غیر منتخب شخص کو مشیر خزانہ بنایا ہے۔  علی امین گنداپور کا پورا  بجٹ کھوکھلے الفاظ کے سوا  کچھ بھی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈی آر اے الاؤنس کو مذاق بنا دیا گیا ہے۔  پنشن اصلاحات ملازمین کو کسی صورت قبول نہیں ہیں۔

 تضادات کے نتائج حکمرانوں کے لیے اچھے نہیں ہوں گے۔ علی امین گنداپور  ملازمین کی کم از کم تنخواہ 50 ہزار روپے مقرر کرے۔

 مظاہرین نے کہا کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت خزانہ بھرا ہونے کے اعلانات کرتے ہوئے نہیں تھکتی، یہ کیسا بھرا ہوا خزانہ ہے جس میں ملازمین کی تنخواہیں بڑھانے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔

 اگر صوبائی حکومت نے ملازمین کے مطالبات تسلیم نہ کیے تو ملازمین کی نمائندہ تنظیم اگیگا کے پلیٹ فارم سے احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی جس میں صوبہ بھر کے تمام بلدیاتی ملازمین شریک ہوں گے اور پھر پور کردار ادا کریں گے۔