سٹی42: وزیراعلیٰ کو گرفتار کرنے کا حکم جاری ہو گیا۔
اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے پی ٹی آئی کے بانی کے دستِ راست اور کے پی کے کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کے شراب اور اسلحہ برآمدگی کیس میں وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔ یہ وارنٹ ناقابلِ ضمانت ہیں۔
عدالت نے پولیس کو حکم دیا ہے کہ علی امین گنڈا پور کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جائے، یہ وارنٹ جوڈیشل مجسٹریٹ مبشر حسن چشتی نے جاری کیے۔
علی امین گنڈاپور اس بہت پرانے مقدمہ میں عدالت میں کبھی پیش نہین ہوتے۔ اب علی امین کے وکیل نے اس کو عدالت میں حاضری سے مستثنیٰ قرار دینے کی درخواست دائر کی جسے عدالت نے مسترد کر دیا۔ عدالت نے اس کے ساتھ ہی علی امین کو گرفتار کر کے عدالت کے روبرو پیش کرنے کا حکم بھی جاری کر دیا۔ علی امین کی گرفتاری کے یہ وارنٹ ناقابلِ ضمانت ہیں۔

دسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے علی امین سے نیوز چینلز کے کیمروں کے سامنے شراب اور اسلحہ پکڑے جانے کے اس بدنام مقدمہ کی سماعت 21 جولائی تک ملتوی کر دی ہے، یہ مقدمہ ماضی میں ان کے خلاف درج کیا گیا تھا۔
قبل ازیں شراب اور اسلحہ برآمدگی کیس میں علی امین گنڈاپور کے وکیل نے پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ سیشن کورٹ میں پیش کیا اور موقف اختیار کیا کہ یہ عدالت علی امین گنڈاپور کے وارنٹ گرفتاری جاری نہیں کر سکتی، ستمبر کی کوئی تاریخ دے دیں۔ عدالت نے اس پلی کو مسترد کر دیا۔
علی امین پر شراب اور اسلحہ پکڑے جانے کا کیس کیا ہے
اکتوبر 2016 میں جب علی امین وزیراعلیٰ نہیں بلکہ خیبر پختونخوا میں پرویز خٹک وزیر اعلیٰ کی حکومت میں وزیر تھا، اسے اسلام آباد کے علاقہ بنی گالا میں پانچ کلاشن کوف رائفلیں اور شراب لے کر پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کے پیلس کی طرف جاتے ہوئے پولیس کے ناکے پر پکڑا گیا تھا۔ اس وقت وہاں نیوز کیمرے کثیر تعداد میں موجود تھے۔ علی امین نے شراب کی بوتل کو شہد کی بوتل بتایا تھا اور اس بوتل کو لے کر اپنی گاڑی پولیس ناکے پر چھوڑ کر سڑک پر پیدل بھاگنے کی کوشش کی تھی، اس سارے عمل کو بھی نیوز کیمروں نے ریکارڈ کر لیا تھا، چند لمحوں میں پولیس اہلکاروں نے علی امین گنڈاپور کو سڑک پر بھاگتے ہوئے شراب کی بوتل سمیت گرفتار کر لیا تھا۔ علی امین گنڈٓپور کی موجودگی میں اس کی گاڑی کی تلاشی ہوئی تو اس گاڑمی میں چھ کلاشن کوفیں اور کچھ دوسرا ممنوعہ مواد برآمد ہوا تھا۔

ڈان ڈاٹ کام میں 30 اکتوبر 2016 کو اس واقعہ کی جو خبر شائع ہوئی وہ اب بھی اس ویب سائٹ پر موجود ہے۔
اس خبر میں بتایا گیا کہ پولیس نے پی ٹی آئی رہنما امین گنڈا پور کی گاڑی سے پانچ کلاشنکوف رائفلیں برآمد کر لیں۔ پولیس نے امین گنڈا پور کی گاڑی سے شراب بھی برآمد کر لی۔
ڈان نیوز کی اس رپورٹ کے مطابق اسلام آباد پولیس نے اتوار کو کہا کہ انہوں نے بنی گالہ کے باہر پی ٹی آئی رہنما امین گنڈا پور کی گاڑی سے پانچ کلاشنکوف رائفلیں، ایک پستول، چھ میگزین، ایک بلٹ پروف جیکٹ، شراب اور آنسو گیس کے تین شیل برآمد کیے ہیں۔
خیبرپختونخوا کے وزیر ریونیو امین گنڈا پور کی گاڑی کو چیک پوسٹ پر روک کر تلاشی لی گئی۔ کار کو ضبط کر لیا گیا اور گنڈا پور کے ڈرائیور کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔ تاہم پولیس نے گنڈا پور کو جانے دیا۔
گنڈا پور نے پولیس کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ دو لائسنس یافتہ کلاشنکوفوں کے ساتھ سفر کر رہا تھا، اور گاڑی میں ایک لائسنس موجود تھا۔ پولیس نے لائسنس برآمد کر لیا، اس نے دعویٰ کیا، پولیس نے اسے جانے دیا۔
گنڈا پور بنی گالہ کی طرف جانے والی سڑک پر بھاگتا نظر آیا
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں گنڈا پور بنی گالہ کی طرف جاتے ہوئے سڑک پر بھاگتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ پولیس اہلکاروں نے ان کی گاڑی کو روک کر تلاشی لی تھی، گاڑی میں سے شراب کی بوتل اور ممنوعہ اسلحہ کے ساتھ آنسو گیس کے شیل بھی نکلے تھے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں گنڈا پور بنی گالہ کی طرف جاتے ہوئے سڑک پر بھاگتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

