لاہور ہائیکورٹ نے آئی جی پنجاب کو لیگی کارکنوں کو ہراساں کرنے سے روک دیا

لاہور ہائیکورٹ نے آئی جی پنجاب کو لیگی کارکنوں کو ہراساں کرنے سے روک دیا


(سٹی 42) لاہور ہائیکورٹ نےمسلم لیگ(ن) کےرہنماؤں کےخلاف درج مقدمات کی نقول فراہم نہ کرنے کیخلاف درخواست پرآئی جی پنجاب کو نوٹس جاری  کرکے مقدمات کی تفصیلات مانگ لیں۔ عدالت نے( ن) لیگی رہنماؤں اورکارکنوں کوہراساں کرنےسےبھی روک دیا۔

خبر پڑھیں۔۔۔نواز شریف، مریم نواز کی سزا معطلی، بال چیف جسٹس کی کورٹ میں چلی گئی

تفصیلا ت کے مطابق لاہورہائیکورٹ کےقائم مقام چیف جسٹس محمد انوارالحق نےمسلم لیگ( ن )لاہورکےصدر پرویز ملک کی درخواست پر سماعت کی،جس میں رہنماؤں کیخلاف درج مقدمات کا ریکارڈ فراہم نہ کرنےکےاقدام کوچیلنج کیاگیا۔درخواست میں ہوم سیکرٹری پنجاب،  آئی جی پنجاب سمیت دیگرکو فریق بناکرموقف اختیار کیا گیا کہ نوازشریف کی وطن واپسی پراستقبالیہ ریلی نکالی گئی لیکن پنجاب پولیس نےمسلم لیگ (ن) کےرہنماؤں کےخلاف نہ صرف مقدمات درج کیےبلکہ مقدمات میں دہشت گردی دفعات بھی شامل کیں۔

خبر پڑھنا مت بھولیں۔۔سرکاری ملازمین کیلئے بڑی خوشخبری، نگران حکومت نے تنخواہوں میں اضافہ کر دیا

یہ بھی لازمی پڑھیں:نیوز بلیٹن3بجے 15 نومبر 2018  

درخواست میں نشاندہی کی گئی کہ  مسلم لیگ (ن)کے رہنماؤں کیخلاف  مقدمات کی نقول کے حصول کےلیےمتعلقہ حکام سےرجوع کرنے کے باوجودنقول فراہم نہیں کی گئیں ۔

خبر لازمی پڑھیں۔۔۔صبح کا بھولا شام کو گھر لوٹ آیا، اہم سیاسی شخصیت دوبارہ( ن) لیگ میں شامل

پرویزملک نےاستدعا کی کہ ان کی جماعت کےرہنماؤں کیخلاف مقدمات کی نقول فراہم کرنےاور مسلم لیگ( ن) کےکارکنوں کوہراساں کرنےسے بھی روکا جائے،درخواست پرمزید کارروائی کل ہوگی.