ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

زلزلے کے شدید جھٹکے، شہری خوفزدہ

زلزلے کے شدید جھٹکے، شہری خوفزدہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے جس کے باعث شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

 زلزلے کے جھٹکے مالاکنڈ، دیر اور چترال سمیت بالائی علاقوں میں محسوس کیے گئے، جبکہ خیبر کے علاقے لنڈی کوتل اور اس کے گردونواح میں بھی زمین لرز اٹھی۔

زلزلہ پیما مرکز کے مطابق ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 5.7 ریکارڈ کی گئی، جبکہ اس کی گہرائی 12 کلومیٹر تھی۔ زلزلے کا مرکز ہندوکش کا علاقہ بتایا جا رہا ہے جو افغانستان میں واقع ہے۔

زلزلے کے باعث متعدد علاقوں میں لوگ گھروں اور دفاتر سے باہر نکل آئے اور کلمہ طیبہ کا ورد کرتے رہے۔ تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو ادارے صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں، جبکہ شہریوں کو افواہوں پر کان نہ دھرنے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ 

 زلزلے کیوں آتے ہیں؟ 

   زلزلے قدرتی آفت ہیں جن کے باعث دنیا بھر میں لاکھوں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق زمین کی تہہ تین بڑی پلیٹوں سے بنی ہے۔ پہلی تہہ کا نام یوریشین، دوسری بھارتی اور تیسری اریبین ہے۔

زیر زمین حرارت جمع ہوتی ہے تو یہ پلیٹس سرکتی ہیں۔ زمین ہلتی ہے اور یہی کیفیت زلزلہ کہلاتی ہے۔ زلزلے کی لہریں دائرے کی شکل میں چاروں جانب یلغار کرتی ہیں۔         زلزلوں کا آنا یا آتش فشاں کا پھٹنا، ان علاقوں ميں زیادہ ہے جو ان پلیٹوں کے سنگم پر واقع ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جن علاقوں میں ایک مرتبہ بڑا زلزلہ آ جائے تو وہاں دوبارہ بھی بڑا زلزلہ آ سکتا ہے۔ پاکستان کا دو تہائی علاقہ فالٹ لائنز پر ہے جس کے باعث ان علاقوں میں کسی بھی وقت زلزلہ آسکتا ہے۔         کراچی سے اسلام آباد، کوئٹہ سے پشاور، مکران سے ایبٹ آباد اور گلگت سے چترال تک تمام شہر زلزلوں کی زد میں ہیں، جن میں کشمیر اور گلگت بلتستان کے علاقے حساس ترین شمار ہوتے ہیں۔

زلزلے کے اعتبار سے پاکستان دنیا کا پانچواں حساس ترین ملک ہے۔         پاکستان انڈین پلیٹ کی شمالی سرحد پر واقع ہے جہاں یہ یوریشین پلیٹ سے ملتی ہے۔ یوریشین پلیٹ کے دھنسنے اور انڈین پلیٹ کے آگے بڑھنے کا عمل لاکھوں سال سے جاری ہے۔ پاکستان کے دو تہائی رقبے کے نیچے سے گزرنے والی تمام فالٹ لائنز متحرک ہیں جہاں کم یا درمیانے درجہ کا زلزلہ وقفے وقفے سے آتا رہتا ہے۔