کلیم اختر: بوتل بند پانی کے شعبے میں ٹیکس چوری کی روک تھام کیلئے حکومت نے بڑا اقدام اٹھاتے ہوئے سخت مانیٹرنگ نظام نافذ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے مطابق اب پیداواری عمل کی مکمل نگرانی جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے کی جائے گی تاکہ سیلز ٹیکس کی درست وصولی یقینی بنائی جا سکے۔
ایف بی آر نے اس مقصد کیلئے الیکٹرانک مانیٹرنگ سسٹم متعارف کرا دیا ہے، جسے سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے سیکشن 40 سی (2) اور سیلز ٹیکس رولز 2006 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے۔ تمام بوتل بند پانی بنانے والی کمپنیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 15 جون 2026 تک اس نظام کی تنصیب مکمل کریں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے نظام کے تحت تمام پیداواری یونٹس میں جدید آلات کی تنصیب لازمی قرار دی گئی ہے، جن میں انڈسٹریل بارکوڈ اسکینرز، کاؤنٹنگ سینسرز، کمپیوٹرز، آئی پی کیمرے، نیٹ ورک ویڈیو ریکارڈرز اور پروگرام ایبل کنٹرولرز شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ایل ای ڈی ڈسپلے اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی کا نظام بھی لازمی ہوگا تاکہ مانیٹرنگ کا عمل متاثر نہ ہو۔
خصوصی پروڈکشن مانیٹرنگ سافٹ ویئر کے ذریعے پیداوار کا ڈیٹا براہ راست ایف بی آر کو منتقل ہوگا، جبکہ ریئل ٹائم آبجیکٹ ڈیٹیکشن کے ذریعے بوتلوں کی خودکار گنتی ممکن بنائی جائے گی۔ یہ نظام نہ صرف پیداواری مقدار اور رفتار کی نگرانی کرے گا بلکہ کسی بھی غیر متوقع بندش یا مشکوک سرگرمی کی فوری نشاندہی بھی کرے گا۔
مزید برآں، تمام ڈیٹا کو محفوظ کرنے اور قانونی کارروائی کیلئے ریکارڈ آرکائیو کرنے کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔ ایف بی آر کی منظوری کے بغیر کوئی بھی وینڈر اس سسٹم کی فراہمی یا تنصیب نہیں کر سکے گا۔ چیف کمشنرز ان لینڈ ریونیو کو فوکل پرسنز مقرر کرنے کی ہدایت بھی جاری کر دی گئی ہے تاکہ مینوفیکچررز اور منظور شدہ وینڈرز کے درمیان مؤثر رابطہ یقینی بنایا جا سکے۔