ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

شرم کی بات ہے پی ٹی آئی نازک ترین موڑپر پاکستان کے ساتھ کھڑا نہیں ہونا چاہتی

شرم کی بات ہے پی ٹی آئی نازک ترین موڑپر پاکستان کے ساتھ کھڑا نہیں ہونا چاہتی
کیپشن: File Photo
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: سینئیر سیاستدان شرجیل میمن نے پی ٹی آئی کے اچانک قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں نہ جانے کے اعلان پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا، ایسا تو ملک کی تاریخ میں کبھی نہین ہوا۔ شرجیل میمن نے کہا، طالبان کی حمایت یافتہ جماعتیں ان کیمرہ اجلاس میں شریک نہیں ہیں۔ شرم کی بات ہے پی ٹی آئی نازک ترین موڑپر پاکستان کے ساتھ کھڑا نہیں ہونا چاہتی۔

شرجیل میمن نے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پی ٹی آئی کے شریک نہ ہونے پر  اس کی قیادت کی سخت الفاظ میں اس کی مذمت کی۔ شرجیل میمن نے  کہا ،  طالبان کی حمایت یافتہ جماعتیں ان کیمرہ اجلاس میں شریک نہیں ہیں۔ ملک کو دہشت گردی کا چیلنج درپیش ہے۔ یہ آگ کہیں بھی پہنچ سکتی ہے۔ شرم کی بات ہے پی ٹی آئی نازک ترین موڑپر پاکستان کے ساتھ کھڑا نہیں ہونا چاہتی۔

  قومی مسائل پر تمام سیاسی جماعتوں کو ایک ساتھ کھڑا ہونا چاہیے

شرجیل میمن نے سندھ اسمبلی میں میڈیا س کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں پی ٹی آئی کی عدم شرکت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو سب سے بڑا چیلنج دہشت گردی کا درپیش ہے اور دشمن ممالک کے ایجنڈے پر دہشت گردی شروع کی گئی ہے، جس کا مقصد پاکستان کو غیر مستحکم کرنا ہے۔

شرجیل میمن نے پی ٹی آئی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ شرم کی بات ہے کہ پی ٹی آئی اہم اور نازک ترین موڑ پر پاکستان کے ساتھ کھڑا نہیں ہونا چاہتی۔ انہوں نے کہا کہ اڈیالہ جیل میں بیٹھا شخص جب تک اجازت نہیں دے گا، پی ٹی آئی ساتھ نہیں دے گی۔  قومی مسائل پر تمام سیاسی جماعتوں کو ایک ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔

ملک میں دراندازی ہو رہی ہے
سندھ کے سینئیر وزیر اور پیپلز پارٹی کے سینئیر لیڈر نے مزید کہا کہ بھارت کی طرف سے ملک میں دراندازی ہو رہی ہے اور بھارت پاکستان کو کمزور کرنا چاہتا ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو فنڈنگ بھی ہوئی ہے تاکہ پاکستان کو کمزور کیا جائے۔

شرجیل میمن نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پوری قوم کھڑی ہے اور پیپلز پارٹی ہمیشہ دہشت گردی کی مذمت کرتی آئی ہے، کیونکہ پیپلز پارٹی خود دہشت گردی کا شکار رہی ہے۔ انہوں نے طالبان کے دفاتر کھلوانے والوں پر بھی تنقید کی اور کہا کہ جو جماعتیں طالبان کی حمایت کرتی رہیں، وہ آج ان کے ساتھ ہیں۔

شرجیل میمن نے پی ٹی آئی کے رویے کو اس کی پرانی عادت اور سرشت قرار دیا۔ انہوں نے کہا  کہ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت کے دوران آرمی پبلک سکول میں دہشتگردی  کا واقعہ ہوا تھا اور پی ٹی آئی نے اس پر بھی کوئی  قدم نہیں اٹھایا تھا۔

انھوں نے مزید کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر دہشت گردی اور اس جیسے مسائل کا مقابلہ کرنا ہوگا، اور پاکستان کو نقصان پہنچانے والی جماعتوں کا ساتھ نہیں دیا جا سکتا۔

شرجیل میمن نے پیپلز پارٹی کا واضح موقف دہراتے ہوئے کہا کہ پارٹی کینالز نہیں بننے دے گی اور صحافیوں کو عید کے بعد بھیج کر یہ چیک کرایا جائے گا کہ کینالز بن رہے ہیں یا نہیں۔