ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

سرحد پار آبی وسائل کا انتظام عالمی امن و سلامتی سے جڑا اہم معاملہ ہے، اسحاق ڈار

 سرحد پار آبی وسائل کا انتظام عالمی امن و سلامتی سے جڑا اہم معاملہ ہے، اسحاق ڈار
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42 : نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ سرحد پار آبی وسائل کا انتظام عالمی امن و سلامتی سے جڑا اہم معاملہ ہے، مشترکہ آبی وسائل کا تحفظ تعاون، معاہدوں اور باہمی احترام سے ہی ممکن ہے۔ 

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا برسلز کانفرنس سے خطاب کرتے کہا کہ سرحد پار آبی وسائل کا انتظام عالمی امن و سلامتی سے جڑا اہم معاملہ ہے، مشترکہ آبی وسائل کا تحفظ تعاون، معاہدوں اور باہمی احترام سے ہی ممکن ہے۔ پانی کو کبھی بھی دباؤ یا جبر کے آلے کے طور پر استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور عالمی قوانین کے اصولوں کی پاسداری کی، پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہدہ 1960ء میں آبی وسائل کے استعمال کا فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ 

اسحاق ڈار نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ کئی دہائیوں اور تین جنگوں کے باوجود برقرار رہا، پاکستان نے ہمیشہ آبی تنازعات کے حل کے لیے معاہدے کے تحت بین الاقوامی طریقہ کار اختیار کیا، یکطرفہ طور پر معاہدے ختم کرنا ذمہ دار ریاستوں کا طرز عمل نہیں، بھارت نے بیانات کے بعد غیر قانونی اقدامات کا سلسلہ شروع کیا، بھارت کے آبی منصوبے دریائی نظام کو متاثر کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔ 

نائب وزیراعظم نے کہا کہ دریا صرف پانی کے راستے نہیں بلکہ زندگی، تاریخ اور تہذیبوں کے امین ہیں، 240 ملین پاکستانیوں کو پانی سے محروم کرنے کی پالیسی تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتی ہے، پانی مشترکہ ذمہ داری اور انسانی وقار کی بنیاد ہے، اسے تنازع نہیں تعاون کا ذریعہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان تمام معاملات بات چیت، سفارتکاری اور عالمی قانون کے تحت حل کرنے کے لیے پرعزم ہے، پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ عالمی برادری کو پانی سے متعلق مسائل پر تعاون اور اشتراک بڑھانا ہوگا۔ 

اسحاق ڈار نے کہا کہ مشترکہ آبی وسائل قوموں کو تقسیم نہیں بلکہ متحد کرنے کا ذریعہ بننے چاہئیں، بھارت کی جانب سے دریاؤں پر منصوبے آبی نظام کو یکسر تبدیل کر سکتے ہیں، بھارت کے 17 منصوبے اسے آبی بالادستی حاصل کرنے کے ذرائع فراہم کر سکتے ہیں۔ دریائی نظام محض آبی گزرگاہیں نہیں بلکہ زندگی کی بنیادی ضرورت ہیں، وادی سندھ کی قدیم تہذیب آج غیر معمولی خطرات سے دوچار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی تک منصفانہ رسائی سے محرومی ایک بڑے انسانی بحران کا سبب بن سکتی ہے۔  عالمی نظام میں معاہدوں کا احترام بنیادی حیثیت رکھتا ہے، یورپ میں سرحد پار آبی معاہدوں پر عملدرآمد علاقائی استحکام اور خوشحالی کا ذریعہ بنا۔ سندھ طاس معاہدہ عالمی سطح پر آبی تعاون کے لیے اہم مثال ہے۔ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے باعث شدید خطرات کا سامنا کر رہا ہے۔ پاکستان کا عالمی گرین ہاؤس گیس اخراج میں حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے، آبی وسائل کے انتظام کے لیے عالمی تعاون میں اضافہ ناگزیر ہے۔ سرحد پار پانیوں کی حکمرانی کا مستقبل تعاون اور عالمی قوانین کے احترام سے وابستہ ہے۔