ویب ڈیسک:پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان ایک اہم مفاہمتی یادداشت پر پیش رفت سامنے آئی ہے، جسے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک نمایاں قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
سرکاری اعلان کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (اسلام آباد ایم او یو) پر بطور ثالث توثیقی دستخط کیے، جبکہ اس دستاویز پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدرمسعود پیزشکیانے دستخط بھی شامل ہیں۔
I am honoured to announce that the historic ‘Islamabad Memorandum of Understanding’ has been electronically signed today between the United States of America and the Islamic Republic of Iran. The Memorandum has been signed by honourable Presidents of both the countries and also…
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) June 18, 2026
دستیاب معلومات کے مطابق یہ مفاہمتی یادداشت مکمل اور حتمی امن معاہدہ نہیں بلکہ ایک عبوری فریم ورک ہے، جس کا مقصد فوری کشیدگی میں کمی، جنگ بندی کے تسلسل اور آئندہ مذاکرات کے لیے راستہ ہموار کرنا ہے۔ اس کے تحت تقریباً 60 روزہ مذاکراتی مدت بھی رکھی گئی ہے تاکہ مستقل نوعیت کے معاہدے پر پیش رفت ہو سکے۔
پاکستانی قیادت نے اس پیش رفت کو سفارتکاری، مکالمے اور تنازعات کے پرامن حل کی سمت اہم قدم قرار دیا ہے، جبکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اس پیش رفت کو توجہ حاصل ہوئی ہے۔
اعلان کے مطابق 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں ایک تقریب بھی متوقع ہے جہاں اس عمل سے متعلق مزید پیش رفت سامنے آ سکتی ہے۔