ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

عالمی برادری ایران اسرائیل جنگ بندی کیلئے فوری اقدامات کرے؛ وزیراعظم

عالمی برادری ایران اسرائیل جنگ بندی کیلئے فوری اقدامات کرے؛ وزیراعظم
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42 : وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ایران اسرائیل جنگ سے پیدا ہونے والی صورتحال تشویشناک ہے، پاکستان نے ایران پر اسرائیل کی کھلی جارحیت کی بھرپور مذمت کی ہے، عالمی برادری ایران اسرائیل جنگ بندی کیلئے فوری اقدامات کرے۔ 

ان خیالات کا اظہار وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، کہا کہ اسرائیل نے پاکستان کے برادر ملک کے خلاف کھلی جارحیت کی ہے، اس جارحیت کے نتیجے میں سینکڑوں لوگ شہید ہوگئے ہیں، جبکہ سینکڑوں ابھی بھی زخمی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس دن یہ جنگ شروع ہوئی اسی روز ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان سے بات ہوئی، ایرانی صدر کے ساتھ پاکستانی عوام کی طرف سے یکجہتی کا اظہار کیا، پاکستان خطے میں امن واستحکام چاہتا ہے، عالمی برادری ایران، اسرائیل جنگ بندی کیلئے فوری کردار ادا کرے۔

  وزیراعظم نے کہا کہ غزہ کی صورتحال بھی انتہائی افسوسناک ہے، اسرائیلی جارحیت میں 50 ہزار فلسطینی شہید اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں، فلسطینی علاقوں میں ظلم کا بازار گرم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نائب وزیراعظم ترکیہ میں ہونے والے او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔

بجٹ کے متعلق گفتگو 

 وزیراعظم نے بتایا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ پر پارلیمنٹ میں بحث جاری ہے، زراعت پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا گیا، زرعی شعبے کی ترقی کیلئے اقدامات ترجیح ہیں، بجٹ میں تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا، تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس میں ریلیف دیا گیا ہے، 6 سے 12 لاکھ آمدن پر ٹیکس ایک فیصد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، سرکاری شعبے کا ترقیاتی پروگرام ایک ہزار ارب روپے کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سخت محنت سے معیشت استحکام کی راہ پر گامزن ہے، 2023 میں مشکل حالات کا سامنا کرتے ہوئے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا۔

شہباز شریف نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو کی سربراہی میں پاکستانی وفد نے امریکا اور یورپ میں بھرپور نمائندگی کی، قومی مؤقف اجاگر کرنے کیلئے پاکستانی وفد کی کاوشیں قابل ستائش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان نے قوم کی حمایت سے دشمن کے خلاف کامیابی حاصل کی، دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لئے پر عزم ہیں، سکیورٹی اداروں کی تمام ضروریات پوری کریں گے۔