سٹی42: پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے متعلق غیر یقینی صورتحال بدستور برقرار ہے، کیونکہ تاحال انتخابات کا باقاعدہ شیڈول طے نہیں کیا جا سکا۔ ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت نے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے مزید وقت مانگنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کی بنیادی وجہ الیکشن رولز اور حلقہ بندیوں (ڈیمارکیشن) کا عمل مکمل نہ ہونا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ حلقہ بندیاں نہ ہونے کے باعث بلدیاتی انتخابات کے مزید مؤخر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ اسی تناظر میں الیکشن کمیشن نے پنجاب حکومت سے 22 جنوری کو جواب طلب کر لیا ہے جبکہ پنجاب حکومت کی جانب سے کم از کم ایک ماہ کا اضافی وقت مانگنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن کی جانب سے بلدیاتی انتخابات کے رولز پر بعض اعتراضات عائد کیے گئے تھے، تاہم فارم 45 اور فارم 47 سے متعلق اعتراضات دور کر دیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ میئر اور ڈپٹی میئر کے انتخاب کا طریقہ کار واضح کر دیا گیا ہے جبکہ مخصوص نشستوں کے انتخابات کے طریقہ کار کو بھی حتمی شکل دے دی گئی ہے۔
الیکشن رولز کی سمری دوبارہ پنجاب حکومت کو بھجوا دی گئی ہے، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ حلقہ بندیاں مکمل ہونے کے بعد ہی بلدیاتی انتخابات کا حتمی شیڈول جاری کیا جا سکے گا۔ آئینی طور پر حلقہ بندیاں کروانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، جس کے باعث دونوں اداروں کے درمیان مشاورت کا عمل جاری ہے۔
واضح رہے کہ پنجاب حکومت 22 جنوری کو الیکشن کمیشن کے سامنے پیش ہو کر بلدیاتی انتخابات کے لیے مزید ایک ماہ کی مہلت دینے کی باضابطہ استدعا کرے گی۔