ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پاکستان پر ٹی ٹی پی کے حملے افغان سرزمین سے ہو رہے ہیں؛ اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ

پاکستان پر ٹی ٹی پی کے حملے افغان سرزمین سے ہو رہے ہیں؛ اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42: اقوامِ متحدہ کی تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان پر ٹی ٹی پی کے حملے افغان سرزمین سے ہو رہے ہیں، جس سے سرحدی کشیدگی اور جانی نقصان بڑھ رہا ہے۔

رپورٹ واضح کرتی ہے کہ طالبان کا یہ دعویٰ کہ افغانستان میں کوئی دہشت گرد گروہ موجود نہیں، قابلِ اعتبار نہیں۔  یو این رپورٹ کے مطابق افغان سرزمین سے ٹی ٹی پی کی کارروائیاں پاکستان کے لیے سب سے بڑا فوری سکیورٹی چیلنج بن چکی ہیں۔  

رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2025 میں پاکستان میں ٹی ٹی پی کے 600 سے زائد حملوں کا اندازہ ہے، تاہم بہت سے حملے پاکستانی فورسز نے ناکام بنائے۔  اقوامِ متحدہ کے مطابق ٹی ٹی پی نے اپنی حکمتِ عملی میں توسیع کر کے پاکستانی اور چینی منصوبوں کو بھی ہدف بنانے کا اعلان کیا۔  رپورٹ کے مطابق داعش خراسان (ISIL-K) کو دبایا گیا ہے مگر خطرہ ختم نہیں ہوا، یہ افغانستان کے اندر اور باہر شدید خطرہ بنا ہوا ہے۔  رپورٹ میں پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کا ذکر، پاکستانی اداروں کی جانب سے داعش کے اہم عناصر کی گرفتاریاں بھی رپورٹ میں نوٹ کی گئیں۔  

رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2023 کے بعد افغان باشندوں کی واپسی نے افغانستان کی معیشت اور سروسز پر دباؤ بڑھا دیا۔  یو این رپورٹ کے مطابق دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کے باعث خطہ افغانستان کو عدم استحکام کا منبع سمجھتا ہے، اس کا براہِ راست اثر پاکستان کی داخلی سکیورٹی پر پڑتا ہے۔ افغانستان میں متعدد بین الاقوامی دہشت گرد گروہ فعال ہیں، یہ صورتحال علاقائی سلامتی کے لیے مستقل خطرہ ہے۔  

نتیجہ، رپورٹ کے مطابق پاکستان دہشت گردی کا فرنٹ لائن متاثرہ ملک ہے، جبکہ افغانستان میں موجود نیٹ ورکس خطے کے امن کے لیے بنیادی رکاوٹ ہیں۔