سٹی 42:پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹرفاروق ایچ نائیک کی سربراہی میں قائمہ کمیٹی قانون وانصاف کا اجلاس ہوا، لاءاینڈجسٹس کمیشن نے143لاء ریفارم رپورٹس منظورکیں۔
اجلاس میں لاءاینڈجسٹس کمیشن آف پاکستان کی کارکردگی کاجائزہ لیا گیا،شرکا کو بریفینگ میں بتایا گیا کہ لاءاینڈجسٹس کمیشن نے143لاء ریفارم رپورٹس منظورکیں،46سفارشات پرعملدرآمد،33پرجزوی عملدرآمد،58پرتاحال عملدرآمدنہیں ہوسکا،
لاءاینڈجسٹس کمیشن آف پاکستان کے سیکرٹری نےکہا کہ بعض سفارشات بعد میں قانون سازی سے متاثرہوتی ہیں۔کمیٹی کا اکثریتی سفارشات پرعمل نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا .
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ فالو اپ میکانزم مضبوط بنانے کی ضرورت ہے،انہوں نےسفارشات سے متعلق تفصیلی عملدرآمد رپورٹ طلب کر لی،اس کے علاوہ لاء اینڈ جسٹس کمیشن کے عملے کی منظور شدہ اور موجودہ تعداد کی تفصیلات بھی طلب کی گئیں۔کمیٹی کاکمیشن کے اسٹاف کی پروموشن میں تاخیر پر بھی تشویش کااظہار کیا۔
اجلاس میں کیس مینجمنٹ،فکسنگ اور مقدمات کے التوا پرتفصیلی غور ہوا ،کمیشن کی طرف اے وضاحت کی گئی کہ انفرادی کیسز کی فکسنگ کمیشن کے مینڈیٹ میں نہیں۔
،چیئرمین فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ مؤثر کیس مینجمنٹ بروقت انصاف کی بنیاد ہے۔
سپریم کورٹ اور ہائیکورٹس میں ای فائلنگ اصلاحات بھی زیرغور آئیں ۔کمیٹی نے کہا کہ ڈیجیٹل اصلاحات سے سائلین اور وکلاءکے لیے آسانی ہونی چاہیے،
ایکسیس ٹوجسٹس ڈویلپمنٹ فنڈ پر بریفنگ میں بتایا گیا کہ 2005 میں1421ملین روپے ابتدائی سرمایہ تھا،فنڈ نے30 جون تک 4057.14 ملین روپے سرمایہ کاری پر آمدن حاصل کی۔
بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ڈسٹرکٹ کورٹس میں ویمن فسیلیٹیشن سینٹرز کے قیام کی تجویز زیر غورہے۔
کمیٹی کا صوبوں اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے کیس مینجمنٹ پر مزید مشاورت کافیصلہ کیا گیا۔