ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ایف بی آر ملازمین کی کارکردگی کا پول کھل گیا

ایف بی آر ملازمین کی کارکردگی کا پول کھل گیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 کلیم اختر:ایف بی آر میں بدعنوانی، نااہلی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے کیسز سامنے آنے لگے، افسران کو جبری ریٹائرمنٹ اور بڑی سزاوں کا سامنا کرنا پڑا،ایکس پاکستان چھٹیوں پر جانے والے متعدد افسران بھی واپس لوٹ کر نا آسکے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق رواں سال کے دوران ابتک ایف بی آر کے درجنوں افسران کے خلاف انکوائریاں شروع کی گئی، ان لینڈ ریونیو اور پاکستان کسٹمز سروس کے متعدد افسران کو محکمانہ کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا، سال 2025 کے پہلے 9 ماہ میں 56 افسران کو “میجر پینلٹی” کی سزا دی گئی۔ 

45 افسران کو فرائض میں غفلت برتنے پر “مائنر پینلٹی” کا سامنا کرنا پڑا، ایف بی آر کے کئی افسران کو محکمانہ کارروائی کے نتیجے میں جبری ریٹائرمنٹ کی سزا دی گئی۔ 

ریکارڈ کے مطابق گریڈ 16 سے 20 تک کے افسران کے خلاف سول سرونٹ رولز 2020 کے تحت کارروائیاں کی گئیں، بعض افسران کو ریفنڈ اور ریکارڈ کے غلط استعمال پر عہدوں سے فارغ کر دیا گیا۔ 

ان لینڈ ریونیو کے افسران ٹیکس کی وصولی میں ناکامی پر بھی کارروائی کی زد میں آئے، فرائض میں غفلت برتنے سے سرکاری خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔

متعدد افسران ’’ایکس پاکستان چھٹیوں‘‘ پر گئے اور ملک واپس ہی نہ آئے، آسٹریلیا، لندن، چین اور جاپان جانے والے کئی افسران نے پاکستان کو ہمیشہ کیلئے خیر باد کہہ دیا۔ 

افسران کے خلاف بیشتر کیسز ٹیکس ریفنڈ اور ریکارڈ ٹیمپرنگ سے متعلق سامنے آئے،انکوائریوں میں مالی بدعنوانی، اختیارات کا ناجائز استعمال اور کارکردگی میں سنگین غفلت ثابت ہوئی۔