ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

مصنوعی ذہانت سے ٹیکس فراڈ کی نشاندہی،  نیا  نظام متعارف

مصنوعی ذہانت سے ٹیکس فراڈ کی نشاندہی،  نیا  نظام متعارف
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

کلیم اختر:  وفاقی حکومت نے ٹیکس نظام کو مزید مؤثر اور شفاف بنانے کیلئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کے تحت  ایف بی آر نے ڈیجیٹل نگرانی اور مصنوعی ذہانت  پر مبنی ٹیکس سسٹم متعارف کرانے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ اس حوالے سے تجاویز کو آئندہ فنانس بل 2026 میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق نئے اے آئی بیسڈ ٹیکس سسٹم کے ذریعے ٹیکس دہندگان کے ریٹرنز کا خودکار تجزیہ کیا جائے گا، جس سے غلط معلومات، انڈر رپورٹنگ اور مشتبہ مالی لین دین کی فوری نشاندہی ممکن ہو سکے گی۔ اس نظام کی مدد سے ٹیکس فراڈ، جعلی ڈکلیئریشنز اور انڈر انوائسنگ جیسے مسائل پر مؤثر قابو پانے میں مدد ملے گی۔

ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ اس جدید ڈیجیٹل سسٹم کے ذریعے نہ صرف ٹیکس چوری کی روک تھام ممکن ہوگی بلکہ محصولات میں بھی نمایاں اضافہ کیا جا سکے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ ٹیکس گیپ کم کرنے اور قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کیلئے مختلف تجاویز پر بھی غور جاری ہے۔

ذرائع کے مطابق فنانس بل 2026-27 سے قبل ٹیکس انفورسمنٹ اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا، جبکہ سمگلنگ اور مالی بے ضابطگیوں کے خاتمے کیلئے بھی جدید نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کی حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے استعمال سے ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھے گی، انسانی مداخلت کم ہوگی اور ریونیو کلیکشن میں بہتری آئے گی، جس سے معیشت کو استحکام ملنے کی توقع ہے۔