شہزاد خان: پنجاب حکومت کے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں ٹیکسوں اور محصولات سے متعلق متعدد اہم اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں، جن پر کاروباری حلقوں اور تاجروں کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ لاہور چیمبر نے بجٹ میں شامل ٹیکس اصلاحات اور کاروباری ضوابط سے متعلق تجاویز کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق ایک ہزار سی سی سے زائد کمرشل اور بڑی گاڑیوں کے ٹوکن ٹیکس میں 20 برس بعد نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بغیر رجسٹریشن گاڑی خریدار کے حوالے کرنے والے شو روم مالکان کے لیے بھاری جرمانے تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے تمام کار ڈیلرز کو ود ہولڈنگ ایجنٹ کے طور پر کام کرنے کا پابند قرار دیا ہے، جبکہ ہوٹلوں میں کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ کے ذریعے ادائیگی پر سیلز ٹیکس کی شرح 8 فیصد مقرر کی گئی ہے۔
بجٹ میں مختلف عمومی خدمات پر سیلز ٹیکس کی شرح 5 فیصد سے بڑھا کر 8 فیصد کر دی گئی ہے، جبکہ فارن ایکسچینج کمپنیوں اور منی چینجرز کی خدمات پر 3 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
زرعی شعبے کے لیے حکومت نے اہم ریلیف دیتے ہوئے کچی کپاس پر عائد "کاٹن فیس" کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔ اسی طرح نئے کاروبار شروع کرنے والوں کو ابتدائی چھ ماہ کے لیے بعض ٹیکس قوانین سے استثنیٰ دینے کی تجویز بھی شامل کی گئی ہے۔
پراپرٹی ٹیکس کے شعبے میں بھی نرمی متعارف کرائی گئی ہے، جس کے تحت ٹیکس کی تاخیر سے ادائیگی پر ماہانہ جرمانے کا خاتمہ کر دیا گیا ہے اور ریلیف کا نظام سہ ماہی بنیادوں پر منتقل کیا گیا ہے۔
بجٹ تجاویز کے مطابق نان رجسٹرڈ تاجروں کو سرکاری ٹھیکے، لائسنس یا این او سی جاری نہیں کیے جائیں گے، جبکہ پنجاب ریونیو اتھارٹی کے قوانین کی خلاف ورزی اور انوائس جاری نہ کرنے پر جرمانوں میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔
مزید برآں کمپنیوں کے لیے ٹیکس قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانے کی حد 5 لاکھ سے بڑھا کر 10 لاکھ روپے تک مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ بجٹ کے مطابق مسلسل دو ماہ تک ٹیکس ریٹرن جمع نہ کرانے والے تاجروں کو ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ سے خارج کیا جا سکے گا۔
کاروباری برادری کا کہنا ہے کہ بجٹ میں شامل بعض اقدامات کاروباری دستاویزات اور ٹیکس نظام کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، تاہم ٹیکسوں اور جرمانوں میں اضافے کے ممکنہ اثرات کا تفصیلی جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔