ویب ڈیسک: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے سولر پر 18 فیصد ٹیکس ختم کرنے کی سفارش کر دی ہے۔ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت سلیم مانڈوی والا نے کی جس میں کمیٹی کے اراکین نے سولر کی درآمدات پر عائد 18 فیصد ٹیکس کو واپس لینے کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی کے اراکین کا کہنا تھا کہ بجٹ سے پہلے کچھ مخصوص لوگوں نے سولر کی درآمد کر کے ذخیرہ کر لیا تھا، اور بعد میں اچانک بجٹ میں سولر پر 18 فیصد ٹیکس عائد کر دیا گیا، جس سے سولر انڈسٹری متاثر ہوئی۔
چیئرمین سلیم مانڈوی والا نے اس اقدام کی شدید مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ سولر پر ٹیکس کو واپس لیا جائے، اور اس ٹیکس کا فیصلہ غیر منصفانہ ہے کیونکہ اس نے سولر پینلز کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے، جو عوام کے لیے ایک اضافی بوجھ بن چکا ہے۔
مزید برآں، سلیم مانڈوی والا نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کو نئے طیاروں کی لیز پر سیلز ٹیکس سے استثنا دینے کے فیصلے کو امتیازی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ تمام ایئر لائنز کے لیے ہونا چاہیے، نہ کہ صرف پی آئی اے کے لیے۔
سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ اگر یہ تجویز منظور ہو گئی، تو یہ فیصلہ عدالت میں چیلنج ہو جائے گا۔
اس پر چیئرمین ایف بی آر نے جواب دیا کہ ہوائی جہاز کو کیپٹل گڈز کے طور پر لے کر ایئر لائنز پر اثر پڑتا ہے، اور کہا کہ وہ اس تجویز پر اٹارنی جنرل سے مشاورت کے بعد دوبارہ کمیٹی میں لائیں گے۔