سٹی 42:بلاول بھٹو نے آزاد کشمیر میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا سیاست صرف اقتدار سنبھالنے کا نام نہیں ہے ; ہم نے آزاد کشمیر کی آواز اسلام آباد پہنچانی ہے ۔حق حاکمیت کے حوالے سے کشمیر کے عوام کو حقوق ملنے چاہئیں ۔اگر آزاد کشمیر کے عوام ذمہ داری دیں تو آپ کی آواز بنیں گے.
ڈڈیال،آزادکشمیر میں چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا سیاستدانوں کا کام عوام کیلئے آواز اٹھانا اور پل کا کردار ادا کرنا ہے،سیاست صرف اقتدار سنبھالنے کا نام نہیں ہے ،یہ الیکشن ریاست آزاد کشمیر کیلئے ایک امتحان سے کم نہیں ،آزاد کشمیر کی تاریخ کے سب سے اہم الیکشن ہیں ۔ہم نے کشمیر کی آواز اسلام آباد تک پہنچانی ہے ، اگر آزاد کشمیر کے عوام ذمہ داری دیں تو آپ کی آواز بنیں گے، ہر مسئلے کو سیاسی اور پرامن انداز میں حل کیا جاسکتا ہے ، کشمیر کے عوام کی مشکلات اور مسائل کا پورا اندازہ ہے ،احتجاج کرنے والوں کے خط کے جواب میں ٹروتھ اینڈ ری کنسلی ایشن کمیشن کی تجویز دی۔
کمیشن کی کارروائی مکمل ہونے تک احتجاج بھی ختم کرنے کا کہا تھا۔حکومت کی غلطیوں کی سزا کشمیر کے عوام بھگت رہے ہیں ،حکومت کی ذمہ داری ہے کہ رٹ قائم کرے ،عوام کو سزا نہ دے ،کشمیر کے عوام کسی اور کے جرم کی سزا بھگت رہے ہیں ، جس نے کوئی جرم ہی نہیں کیا اس کو کیوں سزا دے رہے ہو،مظاہرین اور ریاست دونوں سے مطالبہ ہے کہ عوام کو تکلیف نہ پہنچائیں ، اگر ریاست پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان امن قائم کرسکتے ہیں تو کشمیر میں بھی کریں ۔
آج مشکل دور سے گزر رہے ہیں ،نئی نسل نے اپنا کردار ادا کرنا ہے،
بلاول بھٹو نےکہا حق حاکمیت ،حق ملکیت اور روزگار پیپلز پارٹی کا منشور ہے۔گلگت بلتستان کے عوام نے بھی اسی منشور پر پیپلزپارٹی کو کامیاب کیا،جسکی حکومت اسلام آبادمیں ہو وہ زبردستی کشمیر اور گلگت میں حکومت بناتے ہیں ،اس بار پیپلز پارٹی نے یہ جھوٹا افسانہ بھی دونوں جگہ پر غلط ثابت کرکے دیکھایا،ہم تین نسلوں سے لڑتے آرہے ہیں اور آگے بھی حقوق کی جدو جہد جاری رہے گی،ایسی کوئی غلطی نہیں ہونے دیں گے جس سے کشمیر کی عالمی جدوجہد کو نقصان ہو۔
حق حاکمیت کے حوالے سے کشمیر کے عوام کو حقوق ملنے چاہئیں ۔آئین سازی سڑک پر یا زبردستی نہیں پارلیمان میں ہوتا ہے ۔آئین سازی صرف پاکستان پیپلزپارٹی کو آتی ہے اورکسی کو نہیں آتی ،ایف سی آر قانون کی طرح پرانی ذہنیت پر کارروائی کی جارہی ہے۔کشمیر کا فیصلہ کشمیر ہی کرسکتا ہے اور کشمیر کے عوام ہی کریں گے ،۔
کشمیر کے نمائندگان کو اقتدار کے کمروں میں بٹھانا ہمارا مشن ہے، چاہتے ہیں کہ کشمیر کے عوام اپنے مسائل کے حل خود نکالیں .کشمیر کو تیس تیس دن بند کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی.
مودی سرکار بھی آپ کی زمین سلب کرناچاہتی ہے، یہ نہیں ہونے دیں گے ۔سیلاب متاثرین کیلئے 20لاکھ گھر اور زمین کے مالکانہ حقوق بھی دے رہے ہیں ، پیپلزپارٹی اور باقی جماعتوں میں یہی فرق ہے کہ ہم عوام کی ترقی کو اصل ترقی سمجھتے ہیں ،پاکستان پیپلزپارٹی نے اسی وجہ سے ہمیشہ غریب اور عوام دوست منشور دیا ہے،آپ پیپلزپارٹی کو ووٹ دیں گے تو حق حاکمیت ،حق ملکیت اور روزگا ر کی جدوجہد کریں گے ، حالات مشکل ہے لیکن کشمیر کے عوام نے ووٹ کا اختیار ہر صورت استعمال کرنا ہے،اگر آپ نہ نکلے تو آپ کے فیصلے پھر کوئی اور لے گا اور خمیازہ آپ بھگتیں گے ، گلگت کی طرح آزاد کشمیر کے عوام بھی پیپلزپارٹی کے منشور پر یقین رکھتے ہیں۔27جولائی کو یہ موقع ہوگا کہ آپ اپنے حقوق کیلئے تیر پر مہر لگائیں ۔یہ کون سا شیر ہے جو میر پور ،راولا کوٹ کو کشمیر کے نقشے سے ہی کھاگیا ہے ۔لسانی یا کسی اور بنیادپر تقسیم کو تسلیم نہیں کریں گے ۔
آپ کا وزیر کشمیر کے کئی علاقوں کو کشمیر کا حصہ ہی نہیں مانتے ہیں ،وزیراعظم واضح کریں کہ جو آپ کا وزیر کہہ رہا ہے وہ آپ کی پالیسی ہے ؟انکا دعویٰ ہے کہ 12سیٹیں انکی جیب میں ہیں ،یہ کسی باتیں کرتے ہیں کشمیر کسی کی جیب میں نہیں ،یہاں کے فیصلے کہیں اور نہیں ہوں گے۔پاکستان بھرمیں مہاجرین کی نشستیں بھی اس بار پیپلز پارٹی کی ہیں ۔ جوحقوق رہتے ہیں میں اور آصفہ مل کر کشمیر کو دلائیں گے ۔