ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

 ڈی ای اوز کی نااہلی,  سرکاری و پرائیویٹ سکولوں کے بچوں کے ہیلتھ پروفائل نہ بن سکے

 ڈی ای اوز کی نااہلی,  سرکاری و پرائیویٹ سکولوں کے بچوں کے ہیلتھ پروفائل نہ بن سکے
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: لاہور سمیت پنجاب کی مختلف ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹیز کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں، جہاں سرکاری اور نجی سکولوں میں زیرِ تعلیم بچوں کے ہیلتھ پروفائلز تاحال مکمل نہیں کیے جا سکے۔

ذرائع کے مطابق لاہور میں میٹرک اور انٹرمیڈیٹ سطح کے طلبہ کے ہیلتھ پروفائلز تیار نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے، حالانکہ محکمہ سکول ایجوکیشن کی جانب سے اس حوالے سے متعدد بار واضح ہدایات جاری کی جا چکی تھیں۔ ڈائریکٹر پبلک انسٹرکشن (ڈی پی آئی) نے تمام متعلقہ اتھارٹیز سے سکولوں میں زیرِ تعلیم بچوں کی مجموعی تعداد طلب کر لی ہے اور ہدایت کی ہے کہ میٹرک اور انٹر میں پڑھنے والے طلبہ کا ڈیٹا دو روز کے اندر فراہم کیا جائے۔

ڈی پی آئی کی جانب سے جاری مراسلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فوری طور پر بتایا جائے کہ زیرِ تعلیم بچوں میں سے کتنے فیصد کے ہیلتھ پروفائلز مکمل کیے جا چکے ہیں۔ ذرائع کے مطابق بچوں کے ہیلتھ پروفائلز کی تیاری کا منصوبہ تین سال قبل سابقہ حکومت کے دور میں شروع کیا گیا تھا، جس کا مقصد طلبہ کی صحت، بینائی، قد اور جسامت سے متعلق مکمل ریکارڈ مرتب کرنا تھا۔

محکمہ سکول ایجوکیشن کے حکام کا کہنا ہے کہ اگر مقررہ ڈیڈ لائن میں مطلوبہ ڈیٹا فراہم نہ کیا گیا تو متعلقہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی کے سربراہان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔