سٹی42: وفاقی حکومت نے سولر صارفین کے لیے مشروط طور پر نیٹ میٹرنگ پالیسی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے تحت نو فروری سے قبل معاہدے کرنے والے صارفین اور وہ صارفین جو جنریشن لائسنس سمیت دیگر ضروری دستاویزات مکمل کر چکے ہیں، انہیں نیٹ میٹرنگ کی سہولت میسر ہوگی۔
نیپرا نے نیٹ میٹرنگ پالیسی میں ایک بار پھر ترمیم کا ڈرافٹ تیار کیا تھا، جس کے تحت نو فروری کے بعد جمع درخواستوں پر نیٹ بلنگ کا نظام لاگو ہونا تھا۔ تاہم وزیراعظم میاں شہباز شریف نے اس پر نوٹس لیتے ہوئے نیپرا اور وزارت پاور ڈویژن کو ڈرافٹ پر نظر ثانی کرنے کا حکم دیا۔
وزیراعظم کے نوٹس کے بعد ڈرافٹ میں تبدیلی کی گئی اور عوامی اعتراضات طلب کیے گئے۔ نیپرا نے 9 فروری تک نیٹ میٹرنگ سہولت برقرار رکھنے کے فیصلے پر عوامی رائے طلب کی ہے، جس کے بعد ایک ماہ کے اندر عوامی سماعت میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ چھ فروری کو عوامی سماعت میں تقریباً 300 افراد نے نیپرا کے سامنے مطالبات پیش کیے تھے، لیکن نیپرا نے ابتدائی طور پر اعتراضات کو نظر انداز کر کے وزارت پاور ڈویژن کا موقف تسلیم کیا تھا۔