سٹی42: گورنر خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے اعلان کیا ہے کہ صوبے میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ہوں گے اور لازمی ہوں گے، فیصل کریم کنڈی نے نئے وزیراعلیٰ کو مِل کر کام کرنے کی پیشکش کی اور کہا، میں نہیں چاہتا کہ صوبے میں گورنر رول آئے یاایمرجنسی لگے۔
خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے بدھ کے روز کہا، سہیل آفریدی کی اسمبلی میں تقریر جذباتی تھی وہ پی ٹی آئی کے ورکرز کیلئے تقریر تھی خیبر پختونخوا کے عوام کے لئے نہیں تھی۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا، سہیل آفریدی نوجوان لڑکا ہے اس عمر میں اس طرح کی تقاریر ہو جاتی ہیں۔
گورنر نے کہا، "میں نہیں چاہتا کہ صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی کی نوبت آئے." انہوں نے مزید کہا، "ہمارے صوبے میں انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن ہوں گے اور لازمی ہوں گے." جو عناصر ہمارے ملک کے آئین اور قانون کو نہیں مانتے ان کےخلاف آپریشن جاری رہے گا۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ حالات ٹھیک نہیں ہیں اور آپریشن بھی نہ کیا جائے۔
پیپلز پارٹی خیبر پختونخوا میں کیا کرےگی
گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا، مستقبل میں پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کے اتحاد پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ اگر پی ٹی آئی اپنا اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزائی کو بنا سکتی ہے تو پھر بہت کچھ ہو سکتا ہے۔
علی امین گنڈاپور کے متعلق
گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا، حلف برداری کی تقریب میں علی آمین گنڈہ پور کو ہونا چاہیے تھا،جانے والا وزیر اعلی آنے والے وزیر اعلی کو وزارت اعلی دے کر جاتا ہے ۔
انہوں نے کہا، علی آمین نے ہمیشہ صوبے میں تناو رکھا وفاق سے معاملات کو خراب رکھا۔ ہمارے صوبے کو وفاق پر یلغار نہیں کرنا چاہئے۔
گورنر نے کہا، صوبائی حکومت کو وفاق سے لڑائی کی بجائے این ایف سی اور اپنے بقایاجات کیلیے بات کرنی چاہیے تاکہ عوام کی فلاح ہو سکے۔ صوبے کے عوام اسلام آباد کیلیے بار بار لانگ مارچ کی متحمل نہیں ہو سکتے۔ کسی کو اسلام آباد پر یلغار اور لانگ مارچ سے "آزادی" نہیں ملےگی۔
بانی کو دھرنوں، احتجاجوں سے رہانی نہیں ملےگی
گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا، پی ٹی آئی کے بانی چیرمین کو دھرنوں، احتجاج سے آزادی نہیں ملنے گی۔ اس کیلئے عدالتوں سے رجوع کرنا پڑے گا۔