آشیانہ ہاؤسنگ سکینڈل، شہبا زشریف کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع

(سٹی 42) احتساب عدالت نے آشیانہ ہاؤسنگ سکینڈل میں گرفتار اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی شہباز شریف کو مزید 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا۔ 

تفصیلات کے مطابق آشیانہ ہاؤسنگ سکینڈل میں گرفتار اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کو 10 روزہ جسمانی ریمانڈ ختم ہونے پر احتساب عدالت میں پیش کیا گیا ۔ جہاں آشیانہ ہاؤسنگ سکینڈل کی سماعت ہوئی۔نیب نے موقف اختیار کیاکہ پیراگون سٹی کو نوازنے کیلئے بے ضابطگیاں کی گئیں، ایم پی اے شیخ علاؤالدین نے بھی بے ضابطگیوں بارے بتایا، اب تک قومی خزانے کو 66 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔جو بھی میٹنگ میں شامل رہے ان کو تفتیش کیلئے طلب کر رکھا ہے۔

 شہبازشریف کے وکیل نے موقف اختیار کیاکہ عدالت میں احد چیمہ اور دیگرملزمان کا ریفرنس آ چکا ہے۔ احد چیمہ اور فواد حسن فواد سے تفتیش ہو چکی، 10ماہ سے انکوائری کی جا رہی ہے ابھی تفتیش مکمل نہیں ہوسکی۔ پنجاب حکومت نے جو ٹھیکے دیئے وہ جائز تھے۔ آشیانہ سکیم میں کوئی بے ضابطگی نہیں کی گئی۔

وکیل کے بعدمیاں شہبازشریف نے بھی عدالت میں بات کرنے کی اجازت مانگی، انہوں نے خود پر لگائے گئے تمام الزمات کی تردید کی، انہوں نے کہا کہ میں نے کامران کیانی کو ٹھیکہ نہیں دیا۔اگرکسی کو فائدہ دینا ہوتا تو کامران کیانی کا ٹھیکہ کیوں منسوخ کرتا، میں نےجوکام بھی کیا دیانتداری سے کیا۔میں نے قوم کا پیسہ لوٹا نہیں بچایا ہے۔

شہبازشریف نے کہا کہ میں پاکستانی ہوں پاکستان سے محبت کرتاہوں،مجھے وہاں رکھاگیاہےجہاں سورج کی روشنی تک نہیں، میں ہر قربانی کے لیے تیار ہوں، جہاں بھی بھجوایا جائےگا جانے کوتیار ہوں،اللہ مجھےسرخرو کرے گا۔

نیب نے احتساب عدالت سے شہبازشریف کی مزید ریمانڈ کی استدعا کی جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے شہباز شریف کو مزید 14 روزہ ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا۔

شہبا زشریف کی پیشی کے موقع پر  احتساب عدالت کو جانے والے تمام راستے سیل کردیئے گئے تھے جبکہ عدالت کے اندر اور باہر پولیس اور رینجرز کی نفری تعینات تھی، حمزہ شہباز ،رانا ثنا اللہ ،مریم اورنگزیب، چودھری شہباز، علی پرویز سمیت دیگر لیگی رہنما بھی عدالت میں موجود تھے۔

دوسری جانب احتساب عدالت جانے سے روکنے پر لیگی کارکن سراپا احتجاج بن گئے۔ گو عمران گو کے نعرے بھی لگائے۔

واضح رہے کہ 5 اکتوبر کو نیب نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو صاف پانی کیس میں طلب کیا تھا اور اُنہیں آشیانہ اقبال ہاؤسنگ کیس میں کرپشن کے الزام میں گرفتار کرلیا تھا۔

 اگلے روز انہیں احتساب عدالت پیش کیا گیا تھا جہاں عدالت نے شہباز شریف کو 10 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی تھی۔