سٹی 42:طاہر اشرفی نے کہا قومی امن کمیٹی کے اکابرین نے جس وحدت کا مظاہرہ کیا وہ قابل ستائش ہے ۔محرم کے حوالے سے ترجیحات کی تیاری شروع؛8 جون کو تمام علما ضابطہ اخلاق طے کریں گے۔
لاہور میں چیئرمین پاکستان علما کونسل طاہر محمد اشرفی ملک کی موجودہ صورتحال پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا قومی امن کمیٹی کے اکابرین نے جس وحدت کا مظاہرہ کیا وہ قابل ستائش ہے ۔
خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کا سامنا ہے ۔شیخ ادریس لاکھوں علما کے استاد تین ہزار طالب علم ایک دن میں ان سے پڑھتے تھے ۔ان کو نشانہ بنایا گیا اس سے پہلے بھی کئی لوگوں کو نشانہ بنایا گیا ۔پاکستان سے سازشوں کا سلسلہ ختم نہیں ہوا ۔بنوں چار سدہ لکی مروت میں فوجی یا شہری کا خون ہو وہ بت گناہوں کا خون ہے۔
ہم شہدا کے لواحقین کے ساتھ اظہار یک جہتی کرتے ہیں جن کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا ۔ہم عزم کرتے ہیں جہاں ضرورت ہو گی امن سلامتی اللہ کے دین کی اور وطن کی سر بلندی کے لیے علما ریاست کے ساتھ ہیں ۔
افسوس ہوا بنوں میں پولیس والے شہید ہوتے ہیں لکی مروت باجوڑ میں ہوتے ہیں حکومت کو ان کو دلاسہ دینے جانا چاہئے تھا ۔سب سے پہلی زمہ داری خیبرپختونخوا حکومت کی ہے ۔بائیس لاشیں اٹھیں ہیں کوئی جنازے میں شریک نہیں ہوا۔وزیر اعظم سے اپیل ہے جہاں دہشت گردی ہو وہاں سنئیر وزرا، آئی جی ان کے جنازے میں شریک ہوں۔عوام کو احساس دلائیں وہ اکیلے نہیں ہیں۔
وزیر اعلی خیبرپختونخوا اور بلوچستان سے کہنا چاہتا ہو روانہ آپ کے صوبوں سے لاشیں آ رہی ہیں قانون بنائیں تا کہ لواحقین کو احساس نہ جائے وہ اکیلے ہیں ۔پیغام امن کیمٹی کا وفد خیبر پختونخوا اور بلوچستان جائے گا ۔
محرم کے حوالے سے ترجیحات طے کرنا شروع کر دیا ہے ۔آٹھ جون کو تمام علما مل کر ضابطہ اخلاق طے کریں گے ۔
ہمارا مقصد منفی رویوں کو ختم کرنا ہے ۔آنے والے دن بڑے برکت ہیں فضیلت والے دن ہیں۔اللہ سے رجوع کرنا چائیے مسئلہ فلسطین کمشیر سمیت تمام مسائل حل ہوں ۔دہشت گردی کی جنگ جو مسلط کی جا رہی ہے ہم اس پر فتح پائیں گے۔