ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

سابق ’را‘ سیکریٹری کا مسئلہ کشمیر کو مذاکرات کی میز پر لانے کامطالبہ، اجیت دووال کے بارے اہم انکشافات

سابق ’را‘ سیکریٹری کا مسئلہ کشمیر کو مذاکرات کی میز پر لانے کامطالبہ، اجیت دووال کے بارے اہم انکشافات
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 احمد منصور: سابق ’را‘ سیکریٹری امر جیت سنگھ نے کشمیر کے مسئلے کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مذاکرات کی میز پر لانے کامطالبہ کردیا ،سابق را سیکریٹری امر جیت سنگھ دولت نےہندوستانی قومی سلامتی کے مشیر اجیت دووال کے حوالے سے چشم کشا انکشافات کئے کردیے،کہتے ہیں اجیت دووال بھارت کے استحکام کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔

حالیہ دنوں میں سابق را سیکریٹری امر جیت سنگھ دولت نے معروف صحافی کرن تھاپر کو ایک دھماکہ خیز انٹرویودیا ۔انہوں نے انکشاف کیا کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی کے پیچھے اصل منصوبہ بندی اجیت دووال کی تھی ۔جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کشمیر میں دوبارہ بدامنی، مزاحمت اور عسکریت پسندی نے جنم لے لیا۔آج جو ’’تکون‘‘بھارتی حکمرانی کی نمائندگی کر رہی ہے یعنی مودی، دووال اور وزارت داخلہ امیت شاہ وہ صرف ذاتی مفادات کی تکمیل کے لیے کام کر رہی ہے نہ کہ ملکی مفاد کے لیے۔

امر جیت سنگھ نے مطالبہ کیا کہ کشمیر کے مسئلے کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مذاکرات کی میز پر لایا جائے تاکہ کشمیری عوام کے حقیقی خدشات کو سنا اور حل کیا جا سکے۔
سابق را سیکریٹری نے کہا اجیت دووال ایک خود غرض طاقت پرست شخصیت جو بھارت کے استحکام کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔

امر جیت سنگھ کے مطابق ’’اجیت دووال ایک خودغرض، خوشامدی ، حد سے زیادہ ambitious شخص ہیں جو ہمیشہ اپنے سینئرز کی خوشنودی حاصل کرنے میں لگے رہتے ہیں، ان کے نزدیک نہ دوستی کی قدر ہے نہ اصولوں کی، صرف ذاتی فائدہ اہم ہے۔‘‘

انہوں نے انکشاف کیا کہ اجیت دووال نے ماضی میں ایل کے ایڈوانی جیسے قریبی سیاسی اتحادی کو بھی اس وقت چھوڑ دیا جب انہوں نے دیکھا کہ نریندر مودی سیاست میں تیزی سے اُبھر رہے ہیں۔

امر جیت سنگھ کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی کے پیچھے اصل منصوبہ بندی اجیت دووال کی تھی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کشمیر میں دوبارہ بدامنی، مزاحمت اور عسکریت پسندی نے جنم لے لیا،بھارت سرکار کشمیریوں کا اعتماد شیخ عبداللہ کی گرفتاری کے وقت سے کھو چکی ہے،اجیت دووال وزیر داخلہ کے ساتھ بھی کبھی ہم آہنگ نہیں رہے۔

یہ انکشافات نہ صرف اجیت دووال کی چانکیای شخصی سیاست کو بے نقاب کرتے ہیں بلکہ یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ بھارت میں سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کس حد تک ذاتی ایجنڈے پر چل رہی ہے،  جس کا سب سے بڑا نقصان کشمیر اور خود بھارت کے جمہوری ڈھانچے کو ہو رہا ہے۔