ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پنجاب حکومت کے’ تاریخی ورثہ‘ کی بحالی کیلئے بڑے فیصلے

پنجاب حکومت کے’ تاریخی ورثہ‘ کی بحالی کیلئے بڑے فیصلے
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

راو دلشادحسین: سربراہ مسلم لیگ (ن) محمد نوازشریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کی زیر صدارت اجلاس, تاریخی ورثے کی بحالی اور محفوظ کرنے کے لئے لاہور اتھارٹی فار ہیرٹیج ریوائیول قائم، محمد نواز شریف "لہر" (LAHR ) کے سٹیرنگ کمیٹی کے پیٹرن انچیف ہوں گے۔
متعلقہ افسران پر مشتمل" لہر" کی ذیلی فنکشنل کمیٹی بھی قائم کر دی گئی، لاہور کے تاریخی مقامات سے تجاوزات کی نشاندہی اور ہٹانے پر اتفاق، محمد نوازشریف  نےتجاوزات کے متاثرین کوکاروبار کے لئے متبادل جگہ دینے اور معاوضہ ادا کرنے کی ہدایت کی، لاہور کے ہیری ٹیج ایریاز کی بحالی کے لئے جامع پلان طلب کیا گیا،لاہور کے ہیری ٹیج ایریاز کی بحالی کے لئے شہر چھ زون میں تقسیم
تمام زون ہیری ٹیج ایریاز کی بحالی کے لئے بیک وقت کام شروع کرنے کی تجویز پر اتفاق کیا گیا، مال روڈ کی دلکشی کے لئے بجلی کے تار کی انڈرگراؤنڈ شفٹنگ کا کام تیزی سے جاری، انڈر گراؤنڈ پارکنگ کے لئے شہر کے پانچ مقامات کی نشاندہی کر لی گئی۔

نیلا گنبد کی اصل صورت بحال کرنے کے لئے تجاویز اور سفارشات کا جائزہ, سرکلر روڈ، باغیچیاں اور بدرو کو اصل حالت میں بحال کرنے کا اصولی فیصلہ کیا گیا۔
وزیراعلی مریم نوازشریف نے سرکلر روڈ اور تاریخی دروازوں کے اطراف میں تجاوازت پر اظہار برہمی کیا، بھاٹی گیٹ اور دیگر دروازوں کا منظر نامہ واضح کرنے کے لئے رکاوٹیں ہٹانے کی ہدایت کی، شاہی قلعہ،مقابرجہانگیر ونور جہاں، شالا مار باغ، کامران کی بارہ دری اور دیگر مقامات کو بھی بحال کرنے پر اتفاق، شاہ عالم مارکیٹ تا بھاٹی تک پیدل گزرگاہ بنانے کی تجویز پر غور کیا گیا۔

محمد نوازشریف نے کہا پرانا لاہور بہت خوبصورت ہے، اصل حالت میں بحال کیا جانا ضروری ہے، تاریخی ورثے کی کھوئی ہوئی میراث واپس لانا قومی فریضہ سمجھ کر سرانجام دیا جائے،شہروں کی اصل اور قدیم صورتحال میں بگاڑ پیدا کرنا مناسب طرز عمل نہیں،یورپ نے اپنے شہروں کے صدیوں بعد بھی پرانی شکل میں بحال رکھا، یورپ میں صدیوں گزرنے کے باوجود پرانے محلات اورعمارتیں اصل حالت میں موجود ہیں۔
قومی ورثہ کو تباہ کرنا پسماندگی کے مترادف ہے،لاہور کی قدیمی اور تاریخی حیثیت اور حالت بحال کرنے سے پاکستان بھر کے لوگ محظوظ ہونگے،قیام پاکستان سے قبل لاہور کو انڈو پاک کاثقافتی مرکزسمجھا جاتا تھا،تجاوزات کی وجہ سے اب کوئی تاریخی بازاروں میں جانا پسند نہیں کرتا۔ 

مریم نوازشریف کا کہنا تھا کہ قدیم لاہور کی بحالی پر کام کررہے، چند سال میں شہر کی اچھی شکل نظر آئے گی،جگہ جگہ تجاوزات سے شہروں کو بگاڑنے کی اجازت نہیں دیں گے، تاریخی عمارت کی بحالی کافی نہیں بلکہ اسے برقرار رکھنا بھی ضروری ہے، عوام میں شہریت کا شعور بیدار کرنا ناگزیر ہے،لاہور کے تاریخی دروازوں کو قدیمی شکل میں بحال کیا جائے گا۔
لاہور میں کم از کم 115 عمارتیں تاریخی ورثہ کی حیثیت رکھتی ہیں، کالونیل دور کی 75قدیمی عمارتوں میں سے 48عمارتوں پر کام جاری ہے،مال روڈ پر سعادت منٹو، شورش کاشمیری اور دیگر ادبی شخصیات کی رہائش گاہوں پر تختی لگا کر نمایا ں کیا جائے گا۔