ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

نوشکی شہر سے دور ویران سڑک پر بی ایل اے کا خودکش حملہ، پانچ روزہ دار شہید

سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کر کے تین دہشتگردوں کو جہنم واصل کر دیا، علاقہ میں کلئیرنس آپریشن کیا جا رہا ہے

Balochistan Terrorism, BLA Terrorist attack, FC attacked, city42
کیپشن: بلوچستان کے دور دراز سرحدی علاقہ نوشکی کی ویران سڑک پر بی ایل اے کے دہشتگردوں نے ایک بار پھر پاکستان پر جان لیوا حملہ کر دیا جس مین پانچ روزہ دار شہید ہو گئے۔ حملہ میں ایک کار کو دھماکہ خیز مواد سے بھر کر سڑک پر لایا گیا جہاں سے ایف سے کا ایک کاررواں گزر رہا تھا۔ اس خﷺفناک حملہ میں کار کے قریب سے گزرتی بس زیادہ متاثر ہوئی۔ جعفر ایکسپریس کر بولان کے ویرانے مین حملے کے المناک سانحہ کے بعد سے بلوچستان میں بی ایل اے کے سہولت کاروں کے خلاف اکراس دی بورڈ آپریشن کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے لیکن اس آپریشن کے آغاز سے پہلے ہی آج دوسرا سانحہ ہو گیا۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: بلوچستان کے ضلع نوشکی میں قومی شاہراہ این 40 پر ایف سی کے قافلے پر دہشتگرد کالعدم تنظیم بی ایل اے کے خودکش حملے اور بارودی مواد کے دھماکے میں 3 اہلکار اور 2 شہری شہید  ہو گئے۔ ان حملوں میں  14 سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔

سکیورٹی فورسز نے حملہ آور دہشت گردوں کے خلاف فوری مؤثر جوابی کارروائی کی اور ابتدائی جوابی کارروائی میں تین دہشت گرد جہنم واصل کر دئیے گئے۔ جبکہ خودکش دہشتگرد آج مارا جانے والا چوتھا دہشتگرد تھا۔ 

بزدلانہ  خود کُش حملے میں ایف سی کے تین جوان اور دو سویلین شہید ہوگئے، دھماکے کے بعد نوشکی کےہسپتالوں میں ایمر جنسی نافذ کر دی گئی۔

اس حملے کے  بعد  سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر کلیئرنیس آپریشن شروع کر دیا ہے اور دہشت گردوں کے بھاگنے کے  تمام راستے بلاک کر دیئے ہیں۔

شہداء میں حوالدار منظور علی، حوالدار علی بلاول، نائیک عبد الرحیم، جلال الدین اور محمد نعیم شامل ہیں ، شہداء کا تعلق نواب شاہ، نصیر آباد، بدین، کوئٹہ اور خاران سے ہے.

آئی ایس پی آر نے نوشکی میں دہشتگردی کی کارروائیوں کے بعد بتایا کہ علاقہ میں صورتحال مکمل کنٹرول میں ہے۔ آرمی کا عزم ہے کہ  آخری دہشت گرد کے خاتمے تک کلیئرنس آپریشن جاری رہے گا۔

نوشکی میں ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے بتایا کہ یہ حملہ نوشکی شہر کے قریب کوئٹہ اور تفتان کے درمیان آر سی ڈی شاہراہ پر ہوا۔
ان کے مطابق سکیورٹی فورسز کا ایک قافلہ کوئٹہ سے نوکنڈی کی جانب جا رہا تھا جس میں سات بسیں اور دو کاریں شامل تھیں۔ جب یہ قافلہ آرسی ڈی شاہراہ پر نوشکی شہر کے قریب ایک فلور مل کے قریب پہنچا تو قافلے میں شامل ایک بس کے قریب دھماکہ ہوا جبکہ بعض گاڑیوں کو راکٹوں سے نشانہ بنایا گیا۔

Caption اس واقعے میں ایک بس کو   نقصان پہنچا۔دھماکے کے بعد ایک کار کا ڈھانچہ موقع سے ملا ہے جس سے یہ لگتا ہے کہ دھماکہ خیز مواد اسی میں نصب تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ پر کار کے تباہ شدہ ڈھانچہ اور دیگر شواہد سے پتہ چلا کہ یہ خودکش حملہ تھا۔ 
 زخمیوں کو مقامی سطح پر ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد وہاں سے منتقل کر دیا گیا۔

ان روزہ داروں کو بھی بی ایل اے نے شہید کیا

افغانستان سے آپریٹ کرنے والے غدار  دہشتگردوں کی تنظیم بی ایل اے  کے پروپیگنڈا سیل نے  دعویٰ کیا کہ یہ حملہ بی ایل اے نے کیا ہے۔  11 مارچ کو بولان کے علاقہ ڈھاڈر مین بی ایل اے کے دہشتگردوں کے ٹرین پر حملے اور مسافروں کو  یرغمال بنانے کے سنگین ترین واقعہ کے بعد سے اسلام آباد اور کوئٹہ میں بلوچستان میں بی ایل اے کے سہولت کاروں کے  صفایا کے لئے اکراس دی بورڈ آپریشن کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے لیکن اب تک اس آپریشن کے ضمن مین کوئی سرگرمی سامنے نہیں آئی، دوسری طرف دشہتگرد گروہ اپنی مذموم سرگرمیوں کا سلسلہ مسلسل آگے بڑھا رہا ہے۔

نوشکی دہشتگردوں کا آسان نشانہ

نوشکی بلوچستان کا دور دراز سرحدی علاقہ ہے، نوشکی شہر سے افغانستان موٹر سائیکل پر ایک گھنٹے کی مسافت پر ہے۔  پاکستان کی سرحدوں سے باہر آپریٹ کرنے والے غدار دہشتگرد  رات کے اندھیرے میں کم نگرانی کے سبب آسانی سے بارڈر عبور کر کے پاکستانی علاقوں میں گھستے ہیں اور اپنے مقامی سہولت کاروں کی مدد سے آسانی سے چھپ جاتے ہیں، یہ دہشتگرد عموماً حملہ کرنے کے بعد یہاں نہیں رکتے اور علاقہ چھوڑ کر بیرون ملک اپنی پناہ گاہوں میں جا کر چھپ جاتے ہیں۔

نوشکی شہر بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے اندازاً 130 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے۔
نوشکی شہر میں مختلف بلوچ قبائل کے ساتھ پشتونوں کے بڑیچ قبائل سے تعلق رکھنے والے افراد بھی آباد ہیں۔
نوشکی  کئی سال سے افغان سرحد عبور کر کے آنے والے دہشتگردوں کا آسان نشانہ رہا ہے۔ یہاں  سکیورٹی فورسز اور  پاکستان کی سرکاری تنصیات پر حملوں کے علاوہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات بھی ہوتے رہے ہیں۔
سرحد پار سے آپریٹ کرنے والے دہشتگردوں نے نوشکی شہر میں فروری 2022 کے فروری میں فرنٹیئر کور  کیمپ پر بیک وقت کئی خودکش دہشتگردوں کے ذریعہ خود کش حملہ کیا تھا۔
اپریل 2024 میں حیربیار مری اور اسلم اچھو کی بی ایل اے نے  نوشکی شہر سے  پانچ کلومیٹر پہلے کوئٹہ سے تفتان بارڈر  جانے والی زائرین کی ایک مسافر بس کو روک کر پنجاب سے تعلق رکھنے والے نو مسافروں کو  صرف پنجابی ہونے کی وجہ سے شہید کر دیا تھا۔