سٹی42: پنجاب ٹریفک پولیس کے انتظامی ڈھانچے میں اہم تبدیلی کا فیصلہ کر لیا گیا۔ محکمہ نے صوبہ بھر میں ٹریفک پولیس کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کی تجویز وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو بھجوا دی ہے۔
ذرائع کے مطابق ٹریفک پولیس میں تین نئی ذمہ داریاں متعارف کرائی جائیں گی جن میں انفورسمنٹ، فسیلیٹیٹر اور ریگولیٹر افسران شامل ہوں گے۔
تجویز کے مطابق سیف سٹی کیمروں کو زیادہ سے زیادہ ٹریفک چالان کے لیے استعمال کیا جائے گا جبکہ ان علاقوں میں جہاں کیمرے موجود نہیں، وہاں انفورسمنٹ پولیس اہلکار چالان کریں گے۔
ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے اور عوامی سہولت کے لیے فسیلیٹیٹر اور ریگولیٹر افسران متحرک کردار ادا کریں گے۔ ریگولیٹرز ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی، جیسے رانگ پارکنگ وغیرہ کی تصاویر بنا کر سیف سٹی کو بھجوائیں گے جبکہ فسیلیٹیٹرز موقع پر موجود گاڑیوں کو ہٹانے میں مدد کریں گے۔
محکمہ کی جانب سے بھجوائی گئی سمری میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ کی منظوری کے بعد ٹریفک وارڈنز کی وردی (یونیفارم) میں بھی تبدیلی کی جائے گی۔