’’جیل میں بہت کچھ سیکھ رہا ہوں‘‘

’’جیل میں بہت کچھ سیکھ رہا ہوں‘‘

( عمر اسلم ) پیراگون سکینڈل کیس میں خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق کی پیشی، خواجہ سعد رفیق کہتے ہیں حکومت سیاسی انتقامی کارروائیاں کررہی ہے، تاجروں کی ہڑتال نے ثابت کردیا کہ وہ حکومت کی پالیسیوں سے خوش نہیں ہیں۔

تفتیشی افسر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ 3 شریک ملزمان ندیم ضیاء، عمر ضیاء اور فرحان علی کے گھروں کے مرکزی دروازوں پر وارنٹ گرفتاری اور عدالتی سمن کی کاپیاں چسپاں کر دی ہیں۔ جس پر جج جواد الحسن نے ملزمان خواجہ سعد رفیق اور سلمان رفیق کے جوڈیشل ریمانڈ میں 8 اگست تک توسیع کردی۔

دوران سماعت خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ریفرنس کی کاپی خود دیکھنا چاہتا ہوں، عدالت نے کہا کہ کیا آپکو یقین نہیں، تو سعد رفیق نے کہا کہ یقین تو ہے لیکن جیل میں بہت کچھ سیکھ چکا ہوں تاہم عدالت نے ریفرنس کی نقول ان کو فراہم کر دیں۔

سعد رفیق کہتے ہیں کہ اب بھی وقت ہے کہ میثاق جمہوریت اورمیثاق معیشت پر بات کرلیں۔ انہوں نے کہا کہ تاجروں کی پہلی ہڑتال تھی جس کو سیاسی جماعتوں کی سرپرستی حاصل نہیں تھی۔ پروڈکشن آرڈر اس لئے جاری نہیں کئے جارہے کیونکہ مزید سیاستدانوں کو گرفتار کرنا حکومت کا مقصد ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شیخ رشید نے ریلوے کو تباہ کردیا، ریلوے کی بہتری کیلئے تجاویز دینے کو بھی تیار ہوں۔

خواجہ برادران کی پیشی کے موقع پر ایم اے او کالج سے سیکرٹریٹ تک کنٹینرز لگا کر روڈ کو بلاک کیا گیا تھا، تاہم لیگی کارکنان رہنماؤں سے اظہار یکجہتی کیلئے احتساب عدالت کے باہر نعرے بازی کرتے رہے۔