شیرباز بلوچ: سندھ حکومت کے تعلیمی ایمرجنسی کے دعوے عملی طور پر ہوا میں اڑتے دکھائی دے رہے ہیں۔
سندھ کی تحصیل اوباڑو کے پسماندہ علاقے سامانو شر میں قائم گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول بنیادی سہولیات سے محروم ہے، جہاں طلبہ و طالبات کو شدید سردی میں کھلے آسمان تلے زمین پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنا پڑ رہی ہے۔
مقامی افراد کے مطابق جدید دور میں بھی اسکول میں کلاس رومز، فرنیچر اور چار دیواری جیسی بنیادی سہولیات موجود نہیں ہیں، جس کے باعث بچوں کو سخت موسمی حالات میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ حکومتی دعوؤں کے برعکس زمینی حقائق نہایت تشویشناک ہیں اور تعلیمی ایمرجنسی کے اعلانات صرف بیانات تک محدود دکھائی دیتے ہیں۔
دوسری جانب پنجاب میں گزشتہ دنوں شدید سردی کے پیش نظر سکولوں میں موسم سرما کی چھٹیوں میں ایک ہفتے کا اضافہ کیا گیا تھا،سکولوں کے طلباء اور والدین تاحال گومگو کیفیت کا شکار ہیں کہ 19 جنوری کو سکول کھلیں گے یا نہیں؟اس حوالے سے وزیر تعلیم کا واضح بیان سامنے آ گیا ہے۔
وزیر تعلیم سکندر حیات نےبتایا ہے کہ 19جنوری سے پنجاب کے سرکاری و پرائیویٹ سکول کھل جائیں گے،موسمِ سرما کی تعطیلات میں مزید توسیع نہیں ہوگی۔وزیر تعلیم سکندر حیات کا کہنا ہے کہ موسم سرما کی چھٹیوں کا آغاز 20 دسمبر سے ہوا تھا ، تعلیمی اداروں میں بچوں کو موسم سرما کی کل 30 چھٹیاں دی گئیں ،ابھی تک بچے 30 میں سے 27 چھٹیاں گزار چکے ہیں۔