ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پنجاب اسمبلی کے دوسرے پارلیمانی سال کی کارکردگی رپورٹ جاری

پنجاب اسمبلی کے دوسرے پارلیمانی سال کی کارکردگی رپورٹ جاری
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: پنجاب اسمبلی نے اپنے دوسرے پارلیمانی سال کی کارکردگی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس کے مطابق قانون سازی، قراردادوں اور تحریکوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

 رپورٹ کے مطابق دوسرے سال میں اسمبلی کے 15 اجلاس ہوئے جو مجموعی طور پر 82 دنوں پر مشتمل تھے جبکہ 62 عملی نشستیں بھی منعقد ہوئیں۔اس دوران ایوان میں 109 مسودات قانون پیش کیے گئے، جن میں سے 99 بل منظور ہوئے۔ حکومتی سطح پر پیش کیے گئے تمام 58 بل ایوان سے منظور ہوئے جبکہ پرائیویٹ ممبرز کی جانب سے 51 بل پیش کیے گئے، جن میں سے 41 منظور اور 10 بل التواء کا شکار رہے۔ قانون سازی کی رفتار دوسرے پارلیمانی سال میں پہلے سال کے مقابلے میں نمایاں طور پر تیز رہی۔

رپورٹ میں سوالات اور نوٹسز کی کارکردگی کے بارے میں بھی تفصیلات شامل ہیں۔ سرکاری محکموں کی کارکردگی کے بارے میں 2,399 سوالات جمع کرائے گئے، جن میں سے 749 کے جوابات دیے گئے جبکہ اکثریت کے جوابات فراہم نہیں کیے گئے۔ فوری نوعیت کے 222 سوالات جمع کرائے گئے، تمام سوالات منظور ہوئے مگر صرف 10 کے تحریری جوابات دیے گئے۔

شارٹ نوٹسز کے 7 سوالات جمع کرائے گئے، جن میں 4 منظور اور 2 کے جوابات دیے گئے۔ کالنگ اٹینشن نوٹسز کی تعداد 384 رہی، جن میں سے 266 منظور ہوئے، مگر صرف 71 پر حکومتی جواب ریکارڈ کرایا گیا۔ زیرو آور نوٹسز کی تعداد 508 رہی، جن میں 355 منظور ہوئے اور 67 پر جواب دیا گیا۔ اہم عوامی نوعیت کے 93 نوٹسز جمع کرائے گئے، جن پر حکومتی جواب محدود تعداد میں دیا گیا۔

ارکان اسمبلی کی جانب سے مراعات کے لیے 54 تحریکیں جمع کرائی گئیں، جن میں سے 38 منظور ہوئیں، 28 متعلقہ کمیٹیوں کو بھجوا دی گئیں جبکہ 4 نمٹا دی گئیں۔ 418 التواء کار کی تحریکیں جمع کرائی گئیں، جن میں 191 منظور اور 222 نمٹائی گئیں، جبکہ 40 اب بھی زیر التواء ہیں۔

دوسرے پارلیمانی سال کے دوران 270 قراردادیں جمع کرائی گئیں، جن میں سے 182 منظور اور 88 زیر کارروائی ہیں۔ مجموعی طور پر رپورٹ کے مطابق، دوسرا پارلیمانی سال پہلے کے مقابلے میں زیادہ فعال اور نتیجہ خیز رہا۔