ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پیماء انتظامیہ کی پارٹنر سکولوں پر سخت شرائط، 1600 سے زائد اسکولوں کے لائسنس منسوخ

پیماء انتظامیہ کی پارٹنر سکولوں پر سخت شرائط، 1600 سے زائد اسکولوں کے لائسنس منسوخ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42ؒ: پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن (پیماء) کی انتظامیہ نے پارٹنر سکولوں کے لیے نئی سخت شرائط متعارف کروا دی  جس کے نتیجے میں 1600 سے زائد پارٹنر اسکولوں کے لائسنس منسوخ کر دیے گئے ہیں۔

 ذرائع کے مطابق منسوخ کیے گئے لائسنسوں میں بڑی تعداد ان سکولوں کی ہے جو این جی اوز اور انفرادی شخصیات کو دیے گئے تھے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پیماء نے ان سکولوں کو دوبارہ ٹھیکے پر دینے کیلئے 10 مئی تک درخواستیں طلب کر لی ہیں۔ اس عمل میں حصہ لینے کیلئے سکول مالکان کو 10 ہزار روپے فیس بھی ادا کرنا ہوگی۔

پیماء اسکولز لائسنسی پنجاب کے صوبائی کنوینئر صداقت حسین خان لودھی کااس فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہنا ہے کہ3سالہ کنٹریکٹ کے دوران سکولوں کو فعال بنانے کیلئے لاکھوں روپے خرچ کیے گئے۔ کنٹریکٹ کے اختتام پر اچانک شرائط سخت کرکے لائسنس منسوخ کرنا پارٹنر سکولوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر میرٹ کو نظرانداز کرتے ہوئے سیاسی بنیادوں پر سکولز دیے گئے تو یہ کسی صورت قابل قبول نہیں ہوگا۔
صداقت لودھی کا  پیماء حکام سے مطالبہ کرتے ہوئے کہنا ہے کہ  معاملے پر نظرثانی کی جائے، منسوخ شدہ لائسنس دوبارہ بحال کیے جائیں اور پارٹنر سکولوں کو ایک موقع ضرور دیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو پیماء سکولز لائسنسی احتجاج پر مجبور ہوں گے۔