ویب ڈیسک : وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اسرائیل نے ہمارے برادر ملک قطر کی خود مختاری، سلامتی کی خلاف ورزی کی، جنگی جرائم پر اسرائیل کو کٹہرے میں لانا ہوگا، اقدامات نہ کیے تو تاریخ معاف نہیں کرے گی۔
ان خیالات کا اظہار وزیر اعظم شہباز شریف نے عرب اسلامی ہنگامی سربراہی اجلاس سے خطاب کے دوران کیا، کہا کہ ہم ایک اہم اور افسوسناک واقعے کے تناظر میں اکھٹے ہوئے ہیں، اسرائیل نے ہمارے برادر ملک قطر کی خود مختاری، سلامتی کی خلاف ورزی کی۔ انہوں کہا کہ پاکستان قطر کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے، اسرائیل کا قطر پر حملہ جارحانہ اقدامات کا تسلسل ہے، اسرائیل نے جارحیت کے ذریعے امن کی کوششوں کو شدید دھچکا دیا۔
وزیراعظم نے مطالبہ کیا کہ یو این سکیورٹی کونسل غزہ میں فوری سیز فائر کرائے ، غزہ میں طبی عملے کو فوری رسائی دی جائے۔ انہوں نے کہاکہ ہم سب اسرائیل کی جارحیت کی مذمت کرتے ہیں، بجائے خاموش رہنے کے ہمیں متحد ہونا ہوگا، اس جارحیت کے بعد سوال ہے کہ اسرائیل نے مذاکرات کا ڈھونگ کیوں رچایا؟ اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی دھجیاں اڑانا قابل مذمت ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ غزہ میں انسانیت سسک رہی ہے ، انسانیت کے خلاف جنگی جرائم پر اسرائیل کو کٹہرے میں لانا ہوگا۔ ہم اقوام متحدہ میں اسرائیل کی رکنیت معطل کرنے کی تجویز کے حامی ہیں۔ غزہ میں شہری آبادی کو فوری اور ہنگامی بنیادوں پر امداد کی فراہمی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 1967 کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کا قیام چاہتے ہیں، ہم نے اجتماعی دانش سے اقدامات نہ کیے تو تاریخ معاف نہیں کرے گی۔
واضح رہے کہ ہنگامی سربراہی اجلاس اسرائیل کے قطر پر حملے کی مذمت اور خطے پر اثرات پر تفصیلی تبادلہ خیال کے لیے طلب کیا گیا ہے۔ اجلاس میں 50 سے زائد رکن ممالک کے سربراہان شریک ہیں۔