سٹی42: خیبر پختونخوا میں آج وزیراعلیٰ کی حیثیت سے کام سنبھالنے والے سہیل آفریدی نے مزید ہدایات لینے کے لئے اڈیالہ جیل میں اپنے بانی سے ملاقات کروانے کے لئے وفاقی حکومت اور پنجاب کی حکومت، دونوں کو "احکام" جاری کر دیئے۔
صوبہ کے اندر خارجی دہشتگردوں اور صوبہ کی سرحدوں پر طالبانوں کے حملوں کے عروج کے دوران پی ٹی آئی کے بانی کی"جنگ و جدل سے دور رہنے" کی پالیسی پر عمل کرنے کے لئے بانی کے حکم پر وزیراعْلی بنایا گیا ہے۔ وفاقی حکومت نے اور پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے بانی کی خارجی دہشتگردوں کے ساتھ جنگ نہ کرنے کی نام نہاد پالیسی کو پہلے ہی مسترد کر دیا ہے۔ بانی نے علی امین گنڈاپور کو ہٹا کر سہیل آفریدی کو خیبر پختونخوا کا وزیراعلیٰ بنانے کا حکم جاری کرتے وقت اپنے نمائندہ وکیل کے ذریعہ یہ کلہوایا تھا کہ نئے وزیر اعلیٰ "جنگ و جدل کی پالیسی" سے دور رہیں گے۔
بانی کے حکم پر بنائے گئے وزیراعلیٰ نے اقتدار سنبھالتے ہی صوبہ پنجاب کی حکومت اور وفاقی حکومت کو حکم جاری کر دیا کہ ان کے اڈیالہ جیل جا کر بانی کے ساتھ ملاقات کرنے کے انتظامات کئے جائیں۔ سہیل آفریدی نے عمران خان سے ملاقات کے لیے کل 16 اکتوبر کو اڈیالہ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔
ان کی عمران خان سے ملاقات کے انتظامات کے لیے صوبائی حکومت نے وفاقی اور پنجاب حکومتوں کے ذمہ دار اہلکاروں وفاقی سیکریٹری داخلہ اور سیکریٹری داخلہ پنجاب کو کو سرکاری سطح پر مراسلہ ارسال کردیا ہے۔اس خط میں کہا گیا ہے کہ ’وزیر اعلیٰ کی عمران خان سے ملاقات کروانے کے لیے ضروری انتظامات کیے جائیں۔‘