ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

افغانستان کی درخواست پر 48 گھنٹوں کی جنگ بندی نافذ

Pakistan Afghanistan Ceasefire, City42

سٹی42: پاکستان نے افغان طالبان کی درخواست پر 48 گھنٹے کیلئے جنگ بندی کا اعلان کر دیا۔

"اسلام آباد کا کہنا ہے کہ پاکستان، افغانستان کے اندر  پاک فضائیہ کے حملے کے بعد  افغانستان کی طالبان عبوری حکومت کی درخواست پر 48 گھنٹے کی جنگ بندی پر راضی ہے"

عارضی جنگ بندی معاہدہ

پاکستان اور افغان طالبان انتظامیہ نے آج بدھ کی شام 6 بجے سے شروع ہونے والی 48 گھنٹے کی عارضی جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔ بدھ کو پاکستان کے مقامی وقت کے مطابق 6 بجے جنگ بندی کا آغاز ہوا ہے۔

اسلام آباد میں پاکستانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ دو دن کی جنگ بندی افغانستان کی درخواست پر کی گئی تھی۔
کہا جاتا ہے کہ دونوں فریق تنازع کے پرامن حل کے لیے "ایک مخلصانہ کوشش میں" بات چیت میں شامل ہونے کے لیے پرعزم ہیں۔


حالیہ ایسکلیشن / خارجی دہشتگردوں کے ٹھکانوں اور ان کے معاون طالبانوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے

جنگ بندی پاکستان-افغانستان سرحد پر ایک بار پھر لڑائی اور جھڑپوں کے بعد ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں طالبان اور ان کی سرپرستی میں افغانستان میں رہنے اور پاکستان کے اندر گھس کر دہشتگردی کی کارروائیاں کرنے والے درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
اس کشیدگی کے دوران افغان طالبان کی حکومت 48 گھنٹے کی جنگ بندی کی درخواست کرنے پر اس وقت مجبور ہوئی جب  پاکستان نے افغانستان کے صوبہ قندھار میں خارجی گروہ کی پشتپناہی کرنے میں ملوث پائے گئے طالبانوں کے ہیڈکوارٹر اور دیگر ٹھکانوں پر ٹارگٹڈ فضائی حملہ کیا۔ اس حملے کے بعد افغانستان کی طالبان ریجیم نے سپین بولدک اور کرم کے علاقوں میں بعض معمولی کارروائیاں کرنے کی کوشش کی جن کا پاکستان کی پہلے سے الرٹ فورسز نے انتہائی سرعت کے ساتھ دانت توڑ دینے والا بھرپور جواب دیا۔
پاکستانی فورسز نے آج اپنی جوابی کارروائیوں میں "درجنوں افغان سیکیورٹی فورسز  اہلکاروں اور  خارجی دہشت گردوں کو ہلاک کیا، طالبانوں کے پاکستانی سرحدوں پر موجود ٹینکوں اور فوجی چوکیوں کو تباہ کیا، اور  افغانستان کے اندر واقع بھارتی پراکسی خوارجی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔

شکست خوردہ طالبان کے جھوٹ پر مبنی دعوے اور پاکستان کا جواب
آج سپین بولدک کے علاقہ میں مقامی آبادیوں کی آڑ مین رہتے ہوئے طالبانوں اور خارجی دہشتگردوں نے مل کر پاکستان کے خلاف حملہ کیا جس کا پاکستان نے انتہائی شدید جواب دیا۔ طالبانوں اور ان کے اتحادی خارجی دہشت گردوں کا بھاری جانی نقصان ہوا۔

اس  دراندازی کی سخت سزا ملنے کے بعد کابل کی عبوری طالبان حکومت نے (اپنے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے ذریعے)  دعویٰ کیا  کہ پاکستان نے  سپن بولدک (قندھار) میں ہلکے اور بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا اور افغان فورسز نے جوابی کارروائی کی، جس میں (پاکستانی) پوسٹوں پر قبضہ کیا اور ٹینکوں پر قبضہ کر لیا۔

روسی ٹینک کی تصویر کے ساتھ پاکستان کے ٹیک پر قبضہ کا مضحکہ خیز دعویٰ اور پاکستان کا جواب

شکست کھائے ہوئے طالبانوں کے جھوٹے دعوے کا  پاکستان کے سکیورٹی ذرائع نے فوری جواب دیا ، حکومت کے ترجمان نے  پاک فوج کے ٹینکوں پر قبضہ کے دعوے کو ایک خواب قرار دیا۔ ذبیح اللہ کے جھوٹے دعویٰ کو بے نقاب کرتے ہوئے سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ پاک فوج  کی سخت اور شدید جوابی کارروائی  نے   افغان طالبان کو بوکھلاہٹ کا شکار کردیا،  شکست خوردہ افغان طالبان بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانے کے بعد  سراسر جھوٹے پروپیگنڈا کا سہارا لینے پر مجبور  ہو گئے۔

افغان طالبان  کے ترجمان نے سوشل میڈیا پر  جھوٹ کے پروپیگنڈا پر مبنی پوسٹ  شیئر کر کے جھوٹ پھیلانے کی ناکام کوشش کی۔  ویڈیو میں تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ ٹی 55 ٹینک پاکستانی فوج سے چھینا گیا ہے۔

روسی ساختہ ٹی 55 ٹینک حقیقت میں پہلے سے افغان طالبان کے زیر استعمال ہے۔
 سکیورٹی ذرائع  نے بتایا کہ پاکستان  کی مسلح افواج  نے  افغان  طالبان  کے حملے کو مؤثر طریقے سے پسپا کر دیا ہے۔ 

پاک فوج افغان طالبان کے جھوٹے پروپیگنڈا کے باوجود عزم و حوصلے کے ساتھ دفاع وطن میں مصروف ہے۔

پاکستان اور افغانستان کی حالیہ جنگ کے شہریوں اور سرحدی علاقوں پر اثرات

پاک افغان سرحدی گزرگاہیں بدستور بند ہیں۔
پاکستانی سرحدی شہروں بالخصوص چمن کے رہائشیوں نےافغان طالبان کی  گولہ باری اور مارٹر فائر کی اطلاع دی ہے۔ کچھ خاندان نقل مکانی کر رہے ہیں۔

پس منظر اور سیاق و سباق

پاکستان-افغانستان سرحد پر کشیدگی طویل عرصے سے غیر مستحکم رہی ہے، خاص طور پر پاکستان کی جانب سے اس احتجاج  پر کہ افغان سرزمین  دہشت گرد  گروپوں، خاص طور پر خارجی دہشتگرد گروہ  تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جانب سے پناہ گاہ یا آپریٹنگ اڈے کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ افغانستان کی عبوری طالبان حکومت ہمیشہ سے خارجی گروہوں کے خلاف کارروائی کرنے میں ٹال مٹول کرتی رہی ہے۔ اس ٹال مٹول کے سبب پاکستان کے اندر دہشتگردی کی کارروائیوں سے مسلسل جانی نقصانات ہوتے رہے ہیں۔ حال ہی میں افغان طالبانوں کی  اشتعال انگیز کارروائیاں بڑھنے کے نتیجہ میں پاکستان نے مجبوراً راست اقدام کیا اور  افغانستان کے اندر اپنے دشمن خارجی گروہ کے اہم مرکزی ٹھکانوں کا صفایا کر دیا۔ 

آج48 گھنٹے کی عارضی جنگ بندی ایک ہفتے کے دوران سرحد پار سے فائرنگ کے شدید تبادلے اور افغان طالبان کی طرف سے جارحیت کے مسلسل واقعات کے جواب مین پاکستان کی نشبتاً زیاد ہ شدید جوابی کارروائیوں کے بعد ہوئی ہے۔
اس سے قبل سعودی عرب اور قطر کی سفارتی مداخلتوں کے بعد کشیدگی کو روکنے کی کوششیں ہوئیں لیکن یہ ناکام رہیں۔

غیر یقینی صورتحال اور خلاء

طالبان انتظامیہ نے آج خود جنگ بندی کی بھیک مانگی لیکن پاکستان کے مثبت جواب اور جنگ بندی کے عملی نفاذ کے بعد اب تک  کم از کم عوامی بیانات میں طالبانوں کی طرف سے  باضابطہ طور پر جنگ بندی کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

یہ واضح نہیں ہے کہ آیا جنگ بندی 48 گھنٹے سے زیادہ برقرار رہے گی۔ اس خطے میں ماضی کی جنگ بندی نازک رہی ہے۔

گہرے مسائل (کنٹرول،  دہشتگردوں  کی محفوظ پناہ گاہیں، سرحد پار کمانڈ اینڈ کنٹرول) مختصر جنگ بندی سے حل نہیں ہوتے۔

جنگ بندی کے ممکنہ مضمرات اور خطرات

سفارت کاری کا موقع: ایک وقفہ مزید کشیدگی کو روکنے کے لیے مذاکرات یا ثالثی کی اجازت دے سکتا ہے۔

نازک امن: اگر طالبان یا ان کی پشت پناہی سے پاکستان میں بار بار درنادازی کرنے والے خارجیوں کی طرف سے آج شام ہوئی جنگ بندی کی خلاف ورزیاں ہوتی ہیں، تو یہ دوبارہ بھاری تبادلے میں تبدیل ہو سکتی ہے  اور پاکستان کے  وسیع تر فوجی ردعمل کو متحرک کر سکتی ہے۔

انسانی ہمدردی کا تناؤ: پاکستان کے افغان سرحد کے اوپر واقع آبادیوں میں مقیم شہریوں کی نقل مکانی، بنیادی ڈھانچے کو نقصان، اور  اب تک جاری دہشتگردی کی کارروائیوں کے دوران پاکستانی شہری ہلاکتوں کے سبب پاکستان کی حکومت پر مؤثر کارروائی کرنے کے لئے مسلسل دباؤ ہے۔ اگر مخاف فریق نے جنگ بندی کا احترام نہ کیا تو پاکستانی فورسز دوبارہ منہ توڑ جواب دینے مین تامل نہیں کریں گی۔ 

دہشتگردوں کی چالیں: جنگ بندی کے ساتھ یہ رسک وابستہ ہے کہ یہ دہشتگرد  گروپوں کو  سرحد پار دوبارہ منظم ہونے کی گنجائش دے سکتی ہے۔