سٹی42: پی ٹی آئی کے بانی نے اڈیالہ جیل سے ہدایت کی ہے کہ خیبر پختونخوا میں کل جمعہ کے روز احتجاج کیا جائے۔ بانی نے افغانستان کے اندر خارجی دہشتگردوں اور ان کے مددگار طالبان سکیورٹی فورسز کے ٹھکانوں پر پاکستان کے کامیاب حملوں پر بھی اپنی رائے دی ہے اور ایک بار پھر افغانستان کی طالبان حکومت کی حمایت کی ہے۔
پی ٹی آئی کے بانی نے پنجاب میں کئی روز تک فساد برپا رکھنے والی مذہبی جماعت کے پنجاب پولیس کے ساتھ تصادم کے واقعہ پر بھی اپنی رائے دی اور مذہبی جماعت کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔
میڈیا میں شائع ہو چکی رپورٹوں کے مطابق تحریک انصاف کے بانی عمران خان نےایک طرف تو خیبر پختونخوا میں جمعہ 17 اکتوبر کو "احتجاج" کرنے کا حکم دیا ہے اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے وفاقی حکومت سے درخواست کی ہے کہ مجھے پیرول پر رہا کریں، میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان امن قائم کروا دوں گا۔
اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے باتیں کرتے ہوئے بانی کی بہن نورین خان نے "بانی کا پیغام" میڈیا کو پہنچایا.نورین خان کے مطابق عمران خان نے کہاکہ مذہبی جماعت کے واقعے پر مجھے افسوس اور تکلیف ہے، جوڈیشل کمیشن بنائیں اور 9 مئی سمیت چار واقعات کی تحقیقات کریں۔
نورین خان کے مطابق بانی نے جمعہ 17 اکتوبر کو خیبر پختونخوا میں احتجاج کرنے کی ہدایت دی۔
افغانستان کے حوالے سے نورین خان نے بتایا کہ عمران خان کا کہنا تھا، ہمارے ملک سے مہاجرین واپس گئے ہیں۔ اس پر تکلیف ہے، وہ تین نسلوں سے یہاں تھے انہیں جلدی اور زبردستی نکالا گیا اس سے ان کے دلوں میں ہمارے خلاف تکلیف ہی ہوگی۔
نورین خان کے مطابق بانی نے کہا، پاکستان اور افغانستان کے درمیان جو بھی ہو رہا ہے، سیاستدانوں کاکام ہے وہ اس میں پڑیں، مجھے پیرول پر رہا کریں۔ میں افغانستان کا معاملہ امن کیلئے حل کروں گا۔
ایک دوسری میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بانی نے بیرسٹر ڈاکٹر سیف سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کی جس میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے بعد بیرسٹر ڈاکٹرسیف نے بتایا کہ عمران خان نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا، بانی نے کہا کہ دو مسلم ہمسایہ ممالک کے درمیان لڑائی کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہے۔
بیرسٹر ڈاکٹرسیف کے مطابق بانی نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تنازعات کو لڑائی کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کرنا بہتر ہے۔
بیرسٹر سیف کے مطابق عمران خان نے امن قائم کرنے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں پیرول پر رہائی دی جائے تو وہ امن کے قیام اور تنازع کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔
افغانستان اور پاکستان کے درمیان کیا چل رہا ہے
پاکستان نے درجنوں مرتبہ سمجھانے کے بعد افغانستان کی طالبان حکومت کی جانب سے اشتعال انگیزی کے جواب میں آخر کار کابل اور قندہار میں واقع خارجی دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر ڈرونز اور لڑاکا جہازوں کی مدد سے ہوائی حملے کر دیئے اور آج پاکستان کی جانب سے رسمی اعلان کیا گیا کہ افغانستان میں موجود خارجی دہشتگردوں کی اعلیٰ قیادت کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔
گزشتہ چند روز کے دوران دو مرتبہ افغانستان کی طالبان فورسز نے پاکستان کے ساتھ طویل بارڈر پر ایک سرے سے دوسرےسرے تک کئی جگہوں پر حملے کئے جن کے جواب میں پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے بھرپور طاقت کے ساتھ کارروائی کی اور وطنِ عزیز کی سکیورٹی اور سلامتی کو چیلنج کرنے والوں کو نیست و نابود کر دیا۔
اس دوران افغانستان کے وزیر خارجہ ملا امیر متقی نے بھارت میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف بیانات بھی دیئے جن کا پاکستان نے سفارتی سطح پر منہ توڑ جواب دیا۔
افغانستان کی جارحیت، خارجیوں کی سرپرستی کے پاکستانی جواب پر قوم کا ردعمل
پاکستانی قوم کے تمام مکاتبِ فکر نے افغانستان سے پاکستان کے اندر دہشتگردی کرنے والوں کی طویل عرسہ سے سرپرستی کرنے والی طالبان سکیورٹی فورسز کے پاکستان کی سرحدوں پر براہ راست حملوں پر سخت غم و غصہ کا اظہار کیا، اور اس جارحیت کا بر وقت بھرپور جواب دینے پر پاکستان کی سکیورٹی فورسز کو خڑاج تحسین پیش کیا ہے۔
پاکستان کی حکومت پر شہریوں کا پہلے سے دباؤ ہے کہ وہ پاکستان کے اندر دراندازی کرنے والے دہشتگردوں کے افغانستان میں موجود محفوظ ٹھکانوں کو ختم کرنے کے لئے راست اقدام کرے لیکن پاکستان کی حکومت اور ریاستی اداروں نے ہمیشہ ریسٹرین سے کام لیا اور مصالحت کا راستہ اختیار کرتے ہوئے افغان طالبان کی قیادت کو سمجھایا کہ افغانستان کے اندر پاکستان کے دشمن دہشتگردوں کو محفوظ ٹھکانے فراہم نہ کئے جائیں۔ اس سارے عرصہ کے دوران پاکستان کی مسلھ افواج کے جوانوں اور عام شہریوں نے افغانستان سے بھیجے جانے والے دہشتگردوں کے ہاتھوں گہرے صدمے اٹھائے۔ اب پاکستان نے مجبور ہو کر افغانستان کے اندر موجود دہشتگردوں کے محفوظ ٹھکانوں پر فیصلہ کن کارروائی کی ہے تو پاکستانی قوم کے تمام طبقے اس کا خیر مقدم کر رہے ہیں۔
افغانستان کی درخواست پر سیز فائر
آج شام پاکستان نے افغانستان کی عبوری طالبان حکومت کی درخواست پر 48 گھنٹے کے لئے سیز فائر کر دیا ہے۔ پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے اس سیز فائر کا رسمی اعلان کیا ہے۔
آج ہی پاکستان کے سکیورٹی ذرائع نے کابل اور قندہار میں طابان فورسز اور ان کی سرپرستی میں محفوظ جنت میں رہنے والے خارجی دہشتگردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرنے کے متعلق پاکستانی قوم کو اعتماد میں لیا۔
