"انسٹی ٹیوٹ فار پبلک اوپینین ریسرچ" نے پنجاب حکومت کی کارکردگی پر "عوامی سروے" کی رپورٹ جاری کردی۔ یہ انسٹی ٹیوٹ ماوی میں قائم ہے۔
"انسٹی ٹیوٹ فار پبلک اوپینین ریسرچ" کے سروے میں پنجاب کے 36 اضلاع سے 6 ہزار سے زائد شہریوں کی رائے شامل کی گئی ہے۔ اس سروے کی میتھڈولوجی اور سیمپل کی کوایٹی کی تفصیلات دستیاب نہین ہو سکیں۔
ملاوی مین قائم اس ادارہ کے سروے کے مطابق پنجاب حکومت کی کارکردگی سے صوبے کے 62 فیصد شہری مطمئن ہیں۔ شہریوں نے تعلیم، صحت، انفرا اسٹرکچر اور امن عامہ پر صوبائی حکومت کی کارکردگی کو سراہا۔
البتہ روزگار کی عدم دستیابی پر" 63 فیصد افراد صوبائی حکومت کی کارکردگی سے ناراض دکھائی دیے۔"
سروے میں 57 فیصد شہریوں نے گزشتہ سال کے مقابلے میں صوبائی حکومت کی گورننس میں بہتری آنے کا کہا جبکہ 17 فیصد نے مزید خراب ہونے کی رائے دی، 24 فیصد افراد نے گورننس میں کوئی فرق نہ آنے کا بتایا۔ اتفاق کی بات ہے کہ اس حکومت کو کام کرتے ہوئے ابھی سرف ایک سال ہوا ہے اور اس سے پہلے ایک سال تک نگراں وزیراعلیٰ سید محسن نقوی کی حکومت رہی تھی۔ 22 جنوری 2023 کو نگراں وزیراعلیٰ بننے کے بعد محسن نقوی نے پنجاب مین اتنے تریقاتی کام کئے جو اس سے پہلے والی حکومتوں نے پانچ سال مین بھی نہیں کئے ہوں گے۔
ملاوی میں قائم انسٹی ٹیوٹ کا مزید دعویٰ ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی کارکردگی سے صوبے کے 59 فیصد شہری خوش اور 16 فیصد ناراض نظر آئے جبکہ 24 فیصد نے ان کی کارکردگی کو قابلِ قبول قرار دیا۔
57 فیصد شہریوں نے گزشتہ ایک سال میں مریم نواز کو صوبے کے اہم عوامی مسائل اور گورننس کے چیلنجوں کو مؤثر انداز میں حل کرنے میں بھی کامیاب بتایا، البتہ 36 فیصد افراد نے انہیں اس میں ناکام قرار دیا۔