ویب ڈیسک : حیدرآباد کی سٹیزن کالونی میں گھرمیں آتشزدگی کے نتیجے میں سندھی شاعر آکاش انصاری جاں بحق ہوگئے۔
ریسکیو حکام کے مطابق سٹیزن کالونی میں گھر میں آگ لگی جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق ہوگیا. پولیس نے تحقیقات کے بعد بتایا کہ آگ سےجھلس کرجاں بحق شخص کی شناخت آکاش انصاری کے نام سے ہوئی، جو کہ سندھی شاعر تھے۔
ڈاکٹر آکاش انصاری کا پوسٹمارٹم مکمل کرلیا گیا۔ ایس ایس پی حیدرآباد نے واقعے کی پانچ رکنی تحقیقاتی کمیٹی بنالی، تحقیقاتی کمیٹی میں ایس پی ہیڈکوارٹر مسعود اقبال کی سربراہی میں بنائی گئی ہے، جس میں ڈی ایس پی بلدیہ اور ایس ایچ او بھٹائی ننگر، انسپکٹر طاہر خانزادہ اور ایس ایچ او بلدیہ شامل ہیں۔
ڈاکٹرآکاش انصاری کے منہ بولے بیٹے لطیف آکاش نے بتایا ہے کہ صبح ساڑھے 8 بجے کے درمیان آگ لگنےکا واقعہ پیش آیا، کمرے کا دروازہ کھولا تو ڈاکٹرآکاش بیڈ سے نیچے گرے ہوئے تھے، اندر جانے کی کوشش کی تو میرے پاؤں جل گئے۔
دوسری جانب سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے شاعرآکاش انصاری کی خدمات کوخراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے گھرمیں آگ لگنےکے واقعےکی تحقیقات کی ہدایت کردی۔
صوبائی وزیر ثقافت و سیاحت سندھ سید ذوالفقار علی شاہ نے واقعے پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ، کہا کہ ڈاکٹر آکاش انصاری کے المناک سانحے پر دل افسردہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر آکاش انصاری نے ادب شاعری میں بڑا مقام رکھتے تھے۔ نامور شخصیت اور دوست ڈاکٹر آکاش انصاری کیساتھ پیش آنے والا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے۔
صوبائی وزیر نے ہدایت کی کہ پولیس واقعے پر تمام پہلوؤں سے جائزہ لے۔
صوبائی وزیر سید ذوالفقار علی شاہ نے ڈاکٹر آکاش انصاری کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا ، کہا کہ ڈاکٹر آکاش انصاری کی مغفرت اور درجات کی بلندی کیلئے دعاگو ہوں۔