سٹی42: حکومتِ پاکستان نے ریاست کے خلاف پھیلائی جا رہی جعلی خبروں کے خلاف بڑا ایکشن شروع کر دیا۔ فیک نیوز نیٹ ورکس بے نقاب ہو گئے۔ فیک نیوز پھیلانے میں ملوث مرکزی کرداروں کی فہرست تیار کر لی گئی۔ گرفتاریوں کی تیاریاں کر لی گئیں۔
گزشتہ کچھ دنوں کے دوران فیک نیوز پھیلانے میں ملوث افراد کے خلاف این سی سی آئی اے کے تحت مقدمات درج ہوں گے۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ ایف آئی اے سائبر کرائم اور دیگر خصوصی یونٹس کی جانب سے ملزمان کی فوری گرفتاریاں متوقع ہیں۔
ڈیپ فیک لیب ایکٹو، جعلی ویڈیوز اور آڈیوز کی فارنزک جانچ جاری ہے۔ سوشل پلیٹ فارمز کو نوٹسز جاری کرنے کے سلسلہ کا بھی آغاز ہو گیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ سوشل میڈیا سے فیک مواد کو 24 گھنٹے میں ہٹانے کی ہدایات کی گئی ہیں۔
سوشل میڈیا پر بار بار خلاف ورزی پر اکاؤنٹس کی مستقل معطلی کی سفارش بھی زیر غور ہے۔
حکام نے خبردار کر دیا ہے کہ عوام محتاط رہیں، غیر مصدقہ ویڈیوز یا کلپس شیئر کرنے پر کارروائی ہو سکتی ہے۔
ریاستی اداروں کے خلاف نفرت انگیز جھوٹ پر زیرو ٹالرنس پالیسی نافذ کر دی گئی ہے۔
پراپیگنڈہ فیک نیوز کے پیچھے موجود اوورسیز نیٹ ورک کو ٹریس کیا جا رہا ہے۔ سفارت خانوں کے ذریعے سخت اقدامات کی تیاری کی جا رہی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ بیرونِ ملک بیٹھ کر رہاست پاکستان کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کرنے میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائیاں کرنے کی پلاننگ کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔
ریڈ نوٹس اور بین الاقوامی تعاون حاصل کرنے کے آپشنز پر مشاورت کی جا رہی ہے۔
فیک نیوز روکنے کے ذمہ دار حکام کی جانب سے ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ چینلز اور بلاگرز کوئی بھی مواد نشر کرنے سے پہلے دوہری تصدیق لازمی کرنے کو یقینی بنائیں۔
ذرائع نے بتایا کہ سوشل پلیت فارمز پر گمراہ کن ہیش ٹیگ بنانے اور ٹرولنگ میں ملوث سیلز کے خلاف بھی ٹارگٹڈ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔
پراپیگنڈا، فیک نیوز ک پھلانے میں ملوث افراد کے مالی سہولت کاروں کی نشاندہی کر لی گئی ہے۔ مشکوک ٹرانزیکشنز کی اسکریننگ جاری ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ہنگامی حالات میں افواہ بازی پر اضافی سزائیں لاگو ہوں گی۔
ذرائع نے انکشاف کیا کہ پاکستان کی ریاست کے خلاف حالیہ پروپیگنڈا کی لہر چلانے میں ملوث فیک اکاونٹس ہندوستان اور افغانستان سے آپریٹ ہو رہے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ فیک نیوز پھیلانے الے گروہ کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے کے لئے صوبائی فوکل پرسنز کو نامزد کیا جا چکا ہے، فوری ری ایکشن اور کاؤنٹر میسجنگ یونٹس فعال کئے جا چکے ہیں۔
فیک نیوز رپورٹ کرنے کے لیے سرکاری ہیلپ لائن 1919 ایکٹو کر دی گئی ہے۔ فیک نیوز اور زہریلے پروپیگنڈا کی اطلاع دینے والے شہریوں کی شناخت خفیہ رکھی جائے گی۔