ویب ڈیسک : آزاد کشمیر اسمبلی میں اکثریت سے محروم وزیر اعظم چوہدری انوار الحق اب چند روز کے مہمان ہیں۔ اسمبلی میں چالیس ارکان کی واضح اکثریت رکھنے والی پاکستان پیپلز پارٹی نے سابق وزیراعظم ممتاز حسین راٹھور کے بیٹے فیصل ممتاز راٹھور کو تحریک عدم اعتماد میں نیا وزیر اعظم نامزد کیا ہے جس کے بعد ہر زبان پر یہ سوال ہے کہ فیصل کون ہے؟
فیصل راٹھور کیسے آگے آئے؟
انواز الحق کو ہٹانے کے لئے عدم اعتماد کی تحریک لانے کا فیصلہ کئی ہفتے پہلے ہو گیا تھا لیکن آزاد کشمیر کے دستور کے مطابق عدم اعتماد کی تحریک کے ساتھ نئے وزیراعظم کا نام دینا لازمی تھا، پیپلز پارٹی کے اندر اور پارٹی مین نئے آنے والوں میں وزیراعظم کے نام پر اتفاق نہین ہو پا رہا تھا۔ چوہدری یاسین اکثر ارکان کے ساتھ وفاقی قیادت کا بھی اعتماد رکھتے تھے، پیپلز پارٹی کی قیادت ان کو وزیراعظم بنانے پر تیار تھی لیکن وہ ارکان میں اپنی قیادت پر اتفاق رائے نہ کروا سکے، اسی طرح وزارت عظمی کے دوسرے امیدواروں کے نام پر تمام ارکان بیک وقت متفق نہ ہوئے تو کشمیر کی قیادت کرنے کی ذمہ داری فیصل ممتاز راٹھور کے حصہ میں آ گئی، بظاہر نو آموز اور نوجوان فیصل ممتاز راٹھور سے پارٹی کے سبھی ارکان اسمبلی خوش اور مطمئین ہیں۔ ان کا کسی سے کوئی اختلاف نہیں۔
آج آزاد کشمیر کی سیاست میں اچانک دھماکہ ہوا جب پیپلز پارٹی کی طرف سے عدم اعتماد کی تحریک بالآخر اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کروا دی گئی۔ اس تحریک میں فیصل ممتاز راٹھور کو وزیراعظم نامزد کیا گیا تھا۔ اس تحریک عدم اعتماد کے سامنے آنے سے یہ بھی سامنے آیا کہ پارٹی قیادت نے فیصل ممتاز راٹھور کو وزیراعظم نامزد کر کے تمام ارکان اسمبلی کو ان کے نام پر رام کر لیا ہے۔
فیصل ممتاز راٹھور کی قیادت میں کشمیر میں ترقی کا نیا دور شروع ہونے جا رہا ہے۔ وہ کشمیر کی قیادت کرنے والے سب سے کم عمر سیاستدان ہیں۔
فیصل ممتاز راٹھور اتنے بھی کم عمر نہیں جتنے نظر آتے ہیں۔ وہ 11 اپریل 1978 کو راولپنڈی میں پیدا ہوئے اور اس وقت 46 سال کے ہیں۔
فیصل راٹھور پاکستان پیپلز پارٹی کے کشمیر میں قدیمی کارکن اور سابق وزیراعظم ممتاز حسین راٹھور مرحوم کے صاحبزادے ہیں۔ ممتاز راٹھور کی شخصیت کا خاص پہلو یہ ہے کہ وہ برے سے برے وقت میں بھی پارٹی سے دور نہیں گئے۔ فیصل راٹھور کی والدہ فرحت راٹھور بھی قانون ساز اسمبلی کی رکن اور پیپلز پارٹی شعبۂ خواتین کی صدر تھیں۔ وہ اب فوت ہو چکی ہیں۔
راٹھور خاندان پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی خاندانوں میں شمار کیا جاتا ہے اور برسوں سے آزاد کشمیر کی سیاست میں صاف دامن کے ساتھ چلتے ہوئے کشمیریوں کی تمام برادریوں میں خاص اثرورسوخ رکھتا ہے۔
فیصل ممتاز راٹھور نوجوانی سے پیپلز پارٹی کی داخلی سیاست میں سرگرم ہیں۔ وہ پیپلز پارٹی کے نظریاتی اور متوسط طبقے کی نمائندگی کرتے چلے آ رہے ہیں۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران کشمیر کی سیاست میں کئی بھونچال آئے، بہت سے نامی گرامی اور بہت سے گمنام لوگ، پارٹیاں بدل کر اور وفاداریاں بیچ کر کہیں سے کہیں پہنچ گئے، فیصل ممتاز نے ان بھونچالوں کے دوران کبھی پارٹی کی کشتی سے چھلانگ لگانے کے متعلق نہیں سوچا، جب پیپلز پارٹی کی سیاست کشمیر مین سخت مشکلات میں گھری تب بھی وہ پتوار سنبھال کر کشتی کو منجدھاروں سے نکالنے میں مٖروف رہنے والے کارکنوں میں نمایاں نظر آئے۔ اپنے انہی اوصاف کی وجہ سے فیصل پارٹی قیادت میں بلاول بھٹو زرداری اور فریال تالپور کے قریبی اور بااعتماد کارکنوں میں شمار ہوئے۔

فیصل ممتاز راٹھور کے والد بھی آزاد کشمیر کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں ۔ جب پارٹی کے اندر وزیراعظم کے منصب کے لئے غیر متنازعہ شخصیت کی تلاش شروع ہوئی تو سب کی نظر فیصل ممتاز پر ٹھہرنے کی ایک بڑی وجہ ان کے والد کی وزارتِ عظمیٰ اور دیگر مناصب پر بے داغ کارکردگی بھی تھی۔
ممتاز حسین راٹھور نے آزاد کشمیر کی سیاست میں پیپلز پارٹی کے قیام کے وقت سے ہی نمایاں کردار ادا کیا اور 1975 کے بعد سینئر وزیر، 1990 میں وزیراعظم، 1991 میں اپوزیشن لیڈر اور 1996 میں اسپیکر قانون ساز اسمبلی رہے۔
فیصل ممتاز راٹھور نے ابتدائی تعلیم راولپنڈی میں حاصل کی اور گریجویشن پنجاب یونیورسٹی سے کی۔ ان کے والد کے انتقال کے بعد 1999 میں ان کے بڑے بھائی مسعود ممتاز راٹھور اسمبلی کے رکن منتخب ہوئےجبکہ فیصل ممتاز راٹھور نے LA-17 حویلی کہوٹہ سے پہلی بار 2006 میں انتخاب لڑا اور 2011 میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر پہلی مرتبہ مقانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔
فیصل سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر چوہدری عبدالمجید کی کابینہ میں وزیر رہے۔ 2016 میں انہیں ایک سیاسی مقدمے میں گرفتار بھی کیا گیا لیکن بعد میں وہ اس مقدمے میں بے گناہ قرار پائےاور باعزت بری ہوئے۔
23 مارچ 2017 کو انہیں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کا سیکریٹری جنرل منتخب کیا گیا تھا۔
فیصل 2021 میں دوبارہ قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور اپوزیشن میں متحرک کردار ادا کرتے رہے ۔2023 میں چوہدری انوارالحق کی اتحادی حکومت میں انہیں وزیرِ بلدیات و دیہی ترقی بنایا گیا، جبکہ وہ عوامی ایکشن کمیٹی سے مذاکرات کرنے والی کمیٹی کے سربراہ بھی تھے۔

فیصل ممتاز راٹھور اپنی نرم گفتار، صلح جو اور غیر متنازعہ شخصیت کے باعث سیاسی و عسکری حلقوں اور عوام میں اچھی شہرت رکھتے ہیں۔وہ قومی میڈیا کا بھی وسیع تجربہ رکھتے ہیں اور نجی ٹی وی پر مستقل پروگرام کرتے رہے ہیں۔