ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

موجودہ دور کے نوجوان ڈیجیٹل انقلاب کے مرکز میں کھڑے ہیں ؛ مقررین

 موجودہ دور کے نوجوان ڈیجیٹل انقلاب کے مرکز میں کھڑے ہیں ؛ مقررین
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 سٹی 42: فارمین کرسچن کالج یونیورسٹی  کے شعبہ سیاسیات کے تحت ’’سیاست، میڈیا اور ٹیکنالوجی: ڈیجیٹل دور میں نوجوانوں کو بااختیار بنانا‘‘ کے موضوع پر سیمینار ہوا۔ 

 فارمین کرسچن کالج (چارٹرڈ یونیورسٹی) کے شعبہ سیاسیات کے زیرِ اہتمام ’’سیاست، میڈیا اور ٹیکنالوجی: ڈیجیٹل دور میں نوجوانوں کو بااختیار بنانا‘‘ کے عنوان سے ایک فکر انگیز سیمینار منعقد کیا گیا۔ اس سیمینار کا مقصد ڈیجیٹل مواصلات کے ذریعے سیاست اور نوجوانوں کے کردار میں آنے والی تبدیلیوں اور ان کے اثرات کا جائزہ لینا تھا۔

سیمینار کی نگرانی  شعبہ سیاسیات کی چیئر پرسن ڈاکٹر شکیلہ نور سندھُو نے کی جبکہ پروگرام کے منتظمین میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر زمرد اعوان اور  اسسٹنٹ پروفیسر  ڈاکٹر مدثر فاروقی شامل تھیں۔

ممتاز مقررین میں ڈاکٹر زمرد اوان ، مسٹر نوید عاصم، اور ڈاکٹر مدثر فاروقی شامل تھے، جنہوں نے اپنے علمی و تحقیقی خیالات پیش کرتے ہوئے بتایا کہ جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سیاست، طرزِ حکمرانی اور شہری شمولیت کے انداز کو تیزی سے بدل رہے ہیں۔

مقررین نے اپنے خطابات میں اس امر پر زور دیا کہ موجودہ دور کے نوجوان ایک ایسے ڈیجیٹل انقلاب کے مرکز میں کھڑے ہیں جہاں معلوماتی ٹیکنالوجی، سوشل میڈیا اور نئے ذرائع ابلاغ شعور، سرگرمی اور اصلاح کے طاقتور اوزار بن چکے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں میں ڈیجیٹل فہم، ذمہ دارانہ آن لائن رویے اور اخلاقی میڈیا استعمال کی اہمیت پر روشنی ڈالی تاکہ وہ تعمیری سیاسی کردار ادا کر سکیں اور جمہوری اقدار کو مستحکم بنائیں۔

سیمینار میں طلبہ، اساتذہ اور محققین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شرکا نے سوال و جواب کے سیشن میں بھرپور دلچسپی ظاہر کی اور سیاست، میڈیا اور ٹیکنالوجی کے باہمی تعلقات سے متعلق حقیقی مسائل و امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔اختتامی کلمات میں ڈاکٹر مدثر فاروقی نے مقررین اور شرکا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ شعبہ سیاسیات آئندہ بھی سماجی و سیاسی مباحث کو علمی بنیادوں پر فروغ دیتا رہے گا۔

سیمینار کو ایک قابلِ قدر علمی و فکری کاوش قرار دیا گیا جو طلبہ میں اس بات کا شعور اجاگر کرتا ہے کہ ڈیجیٹل تبدیلی کس طرح اکیسویں صدی میں سیاست اور طرزِ حکمرانی کی سمت متعین کر رہی ہے۔