ویب ڈیسک:تعلیمی اداروں میں موسم گرما کی تعطیلات سب سے طویل ہوتی ہیں،گرمیوں کی چھٹیوں کا ذکر آتے ہی بچے خوشی سے نہال ہو جاتے ہیں۔
موسم گرما کی چھٹیاں قریب ہیں، کہا جا رہا ہے کہ یکم جون سے 9 اگست تک موسم گرما کی تعطیلات ہوں گی،اس حوالے سے محکمہ سکولز ایجوکیشن کی جانب سے موسم گرما کی چھٹیوں کا شیڈول بھی فائنل کر لیا گیا ہے۔
آج کل گرمی کی اس شدت کی وجہ سے ہر کوئی پریشان دکھائی دیتا ہے نہ صرف انسان بلکہ جانور بھی اس بڑھتی ہوئی گرمی سے نا خوش دکھائی دیتے ہیں، گرمی کے اس موسم میں ہر کسی کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں لیکن یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ دل کے مریضوں کو اس موسم میں خاص احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ فطری اعتبار سے زمین کی حرکت کے نتیجے میں موسمیاتی تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں جب زمین حرکت کرتی ہے تو اس کا جو حصہ سورج کے قریب ہوتا ہے یا جس حصّے پر سورج کی شعاعیں سیدھی پڑتی ہیں وہاں گرمی کی شدت زیادہ ہوتی ہے اور اسی طرح جس حصّے پر شعائیں ترچھی پڑتی ہیں وہاں گرمی قدرے کم ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ کرہ ارض پر موجود بیشتر ممالک میں رہنے والے لوگوں کی جلد اور ان کے رنگ بہت زیادہ کالے، بہت زیادہ سفید یا پھر بعض ممالک میں نارمل ہوتے ہیں۔
گرمی کی شدت میں اس اضافے کی بیشتر وجوہات ہیں جن میں سے اہم ترین وجہ اس خطے میں رہنے والے لوگوں کا زندگی گزارنے کا طریقہ ہے، پچھلے کچھ عرصے سے یہاں پر بسنے والے لوگوں نے اپنا لائف اسٹائل بہت زیادہ پرآسائش بنا لیا ہے ہمارے خطہ میں بسنے والے لوگ اب مٹی کے گھروں میں نہیں رہتے بلکہ انہوں نے کنکریٹ کی بڑی بڑی عمارتیں قائم کر لی ہیں، اسی طرح ایئر کنڈیشنز کا حد سے زیادہ استعمال بھی گرمی کی شدت میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔
بہرحال وجہ جو بھی اب آتے ہیں اپنے اصل موضوع کی طرف ،کہا جا رہا ہے کہ اگر درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ ہوا تو ممکن ہے چھٹیاں ایک ہفتہ پہلے ہی دے دی جائیں، رواں سال گرمی کی شدت زیادہ ہو گی یہی وجہ ہے کہ تعلیمی اداروں میں چھٹیاں قبل از وقت دی جا سکتی ہیں،یہ فیصلہ والدین، طلبہ اور اساتذہ کی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے، کیونکہ شدید گرمی بچوں کی تعلیمی سرگرمیوں کو متاثر کر سکتی ہے۔
واضح رہے کہ عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلیوں کا اثر ہر جگہ محسوس کیا جا رہا ہے اور پاکستان بھی ان خطرات سے محفوظ نہیں۔