ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

بلوچستان میں شہید مزدوروں کی تدفین، لواحقین انصاف کےمنتظر

بلوچستان میں شہید مزدوروں کی تدفین، لواحقین انصاف کےمنتظر
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

احمد منصور: بلوچستان میں دہشت گردی کا نشانہ بننے والے پنجاب سے تعلق رکھنے والے پانچ مزدوروں کو ان کے آبائی علاقوں میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔

نمازِ جنازہ میں اہلِ خانہ، عزیز و اقارب، شہریوں اور اہلِ علاقہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جبکہ سوگوار خاندانوں نے حکومت سے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا۔

سیالکوٹ کے علاقے پسرور سے تعلق رکھنے والے محمد حسن اور محمد قدیر کی نمازِ جنازہ بالترتیب گاؤں ہیبت پور اور بٹر بڈیانہ میں ادا کی گئی، جس کے بعد دونوں کو مقامی قبرستانوں میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ دونوں شہداء آپس میں کزن تھے اور روزگار کی غرض سے بلوچستان میں مقیم تھے۔

رحیم یار خان سے تعلق رکھنے والے 40 سالہ بلال غنی اور 20 سالہ بلال قدیر کو بھی ان کے آبائی علاقوں میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ بلال غنی کی نمازِ جنازہ بستی جٹکی میں ادا کی گئی۔ وہ اپنے پیچھے بیوہ اور تین سالہ بیٹی رابعہ کو سوگوار چھوڑ گئے۔ بلال قدیر کی نمازِ جنازہ ان کے آبائی علاقے میں ادا کرنے کے بعد تدفین کی گئی۔ دونوں گزشتہ دو سال سے بلوچستان میں مزدوری کر رہے تھے۔

دوسری جانب نارووال کی غازی وال کالونی سے تعلق رکھنے والے 17 سالہ محسن رضا کی نمازِ جنازہ بھی ان کے آبائی علاقے میں ادا کی گئی، جس میں اہلِ علاقہ اور عزیز و اقارب نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

اس موقع پر محسن رضا کے والد نے کہا کہ ان کا بیٹا گھر کا واحد سہارا تھا اور محنت مزدوری کرکے خاندان کی کفالت کرتا تھا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ واقعے میں ملوث عناصر کو جلد از جلد قانون کے مطابق سزا دی جائے۔