(سٹی42) نگران وزیر داخلہ جاوید شوکت نے کہا ہے کہ کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں۔غیر جانبداری بر قرار رکھنے کے لئے اٹھائے گئے حلف کی پاسداری کرینگے۔ مسلم لیگ (ن)کے کسی بڑے رہنما، امیدوار یا عہدیدار کو گرفتار نہیں کیا گیا۔
نگران وزیر داخلہ جاوید شوکت نے نگران وزیر قانون ضیاء حیدر رضوی اور وزیر اطلاعات و نشریات احمد وقاص ریاض کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ(ن) نے ریلی کی اجازت طلب نہیں کی۔ تھریٹ الرٹس موجود ہیں۔ نا خوشگوار واقعہ سے بچنے کے لئے موبائل سروس معطل کی گئی، انتظامیہ نے لیگی ذمہ داروں کو تحریر ی آگاہ کیا کہ ان کی ریلی غیر قانونی ہے۔ دہشت گردی کے خدشات کے پیش نظر حفاظتی انتظامات کیے، ریلی روکنے کیلئے سابق حکومتیں بھی ایسا کرتی رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم یقین دہانی کراتے ہیں کہ ہم غیر جانبدار رہیں گے، اس لئے اپنے ذہنوں سے شکوک و شبہات نکال دیں ۔ موبائل فون سروس بند کرنے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ دہشت گرد ریموٹ کنٹرول کے ذریعے کوئی کارروائی نہ کریں۔
نگران وزیر قانون نے کہا کہ نواز شریف اور مریم نواز کی گرفتاری نیب جبکہ ائیر پورٹ کی سکیورٹی سول ایوی ایشن کی ذمہ داری ہے اور یہ وفاقی ادارے ہیں۔ پنجاب حکومت اور پولیس صرف مدد کے لئے موجود تھی۔ نقص امن کے خدشے کے پیش نظر مسلم لیگ (ن) کے صرف 124لوگوں کو نظر بند یا گرفتار کیا گیا اور اس میں کوئی بڑا لیڈر، امیدوار یا عہدیدار شامل نہیں۔