سٹی42: پاکستان کے قبائلی ضلع وانا میں کیڈٹ کالج میں گھس کر اے پی ایس پشاور کی طرح سٹوڈنٹس اور ٹیچرز کا قتل عام کرنے سے پہلے ہی مارے گئے تمام دہشتگرد افغانی نکلے۔
کیڈٹ کالج وانا پرحملہ کے ماسٹر مائنڈ اور اس کے سہولت کاروں کی شناخت کا عمل مکمل ہو گیا۔ انتہائی اہم تفصیلات سامنے آگئیں۔
سکیورٹی ذرائع کنے بتایا کہ تحقیقات سے انکشاف ہوا ہے کہ وانا میں کیڈٹ کالج پر حملہ کرنے والے تمام دہشتگرد افغان شہری تھے اور اس حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی۔
ذرائع نے بتایا کہ حملےکو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا حتمی حکم بدنام زمانہ خارجی دہشتگرد نور ولی محسود نے دیا جب کہ حملے کی منصوبہ بندی خارجی دہشتگرد ’زاہد‘ نے کی اور پھر کئی دہشتگرد یہاں آئے جو افغانستان سے ملنے والی ہدایات پرعمل کررہے تھے۔
وانا کیڈٹ کالج پر حملہ کرنے والے دہشتگردوں نے کیڈٹ کالج کے گیٹ پر خودکش حملہ کر کے اپنے کھیل کی ابتدا کی تھی، ابتدا ہی مین پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے ان کا زبردست مقابلہ کیا اور دہشتگرد کیڈٹ کالج میں سٹوڈنٹس کی اقامت گاہ سے دور ایک عمارت کے اطراف مین گھیر لئے گئے۔
کیڈٹ کالج وانا پر دہشتگرد حملے کے باوجود اساتذہ اور کیڈٹس کے حوصلے بلند رہے، آرمی کے جوانوں نے انہیں حفاظت کے ساتھ باہر نکالا اور اس کے بعد کارروائی کر کے کیڈٹ کالج وانا پر حملہ آور ہونے کی جسارت کرنے والے تمام خوارج کو جہنم واصل کردیا گیا۔
فتنہ الخوارج کا نقاب "جیش الہند"
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ خارجی دہشتگرد نور ولی محسود کے حکم پر حملے کی ذمہ داری ’جیش الہند‘ کے نام سے قبول کی گئی، افغان طالبان کی طرف سے فتنہ الخوارج پر دباؤ رہتا ہے کہ اپنی اصلی شناخت استعمال نہ کریں کیونکہ اصل شناخت استعمال کرنے سے ان پر پاکستان اور دوست ممالک کا دباؤ بڑھتا ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق آڈیو میں سنا جاسکتا ہے کہ خوارجی دہشتگرد ’جیش الہند‘ کا متعدد بار نام لیتے ہوئے اردو میں بات کررہا ہے۔
اس حملے کے لیے دہشتگردوں کو تمام ساز و سامان افغانستان سے فراہم کیا گیا اور سامان میں امریکی ساختہ جدید ترین ہتھیار شامل تھے۔
سکیورٹی ذرائع نے مزید بتایا کہ کیڈٹ کالج وانا پر حملے کا مقصد پاکستان میں سکیورٹی خدشات بڑھانا تھا جو بھارتی ایجنسی ’را‘ کی ڈیمانڈ تھی۔
اس حملے میں مارے گئےافغان دہشتگردوں کی شناخت نے تمام شکوک و شبہات ختم کردیئے ہیں کہ افغانستان سے پاکستان میں منظم دہشتگردی کی پلاننگ اور عملدرآمد اب بھی جاری ہے۔